وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے اجلاس ہوا۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو، تاجر کمیٹی کے جاوید بلوانی، ادریس میمن، محمد رضا، جنید مکدا، طارق یوسف اور تنویر پاستا نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کا مجھے شدید دکھ ہے، جانی نقصان کا مطلب ہے کہ کئی خاندان شدید متاثر ہوئے ہیں، تمام متاثرین چلتے ہوئے کاروبار سے رات بھر میں بے روزگار ہوگئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں تمام متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کروں، کس طرح تمام متاثرین کی بحالی ہو، اس کا فیصلہ کرنا ہے، گل پلازہ میں 1200 دکانیں بتائی جا رہی ہیں یعنی 1200 متاثرین ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گل پلازہ کے تمام متاثرین کو بحال کریں گے۔ جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو ایک ایک کروڑ روپے دیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 65 افراد لاپتہ ہیں۔
کمشنر کراچی حسن نقوی نے وزیراعلیٰ سندھ کو گل پلازہ سانحہ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک گل پلازہ سے 14 نعشیں نکالی جا چکی ہیں، اندازاً 50 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ آگ بجھائی جاچکی ہے اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ملبہ اٹھانے کا کام فوری شروع کرنے کی ہدایت کی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ 16 فائر ٹرینڈرز اور بوزر نے آگ بجھانے کا کام کیا، 50 تا 60 فائر فائیٹرز نے آپریشن میں حصہ لیا، واٹر بورڈ آگ بجھانے کے لیے واٹر ٹینکرز مہیا کرتی رہی، واٹر بورڈ نے 431000 گیلن پانی آگ بجھانے کے لیے مہیا کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں تقریباً رات 10 بج کر 36 منٹ پر آگ لگی،
گل پلازہ 8000 اسکوائر گز پر بنا ہوا تھا جس میں 1200 دکانیں تھیں، ریسکیو 1122 نے 6 منٹس میں اپنی ایمبولینس گل پلازہ پہنچا دیں، ریسکیو کے کام میں کے ایم سی اور نیوی کی مجموعی طور پر 24 فائر ریسکیو وہیکلز نے حصہ لیا۔
تاجروں نے گل پلازہ سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو مختلف تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ دکانداروں کو فوری بحال کیا جائے تاکہ ان کا روزگار شروع ہو۔
وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ کی عمارت دوبارہ بنا کر دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم کس طرح گل پلازہ کے متاثرین کو فوری دکان دے کر ان کا کاروبار شروع کروا سکتے ہیں اس متعلق کمیٹی بتائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ آگ لگنے کی فارنزک جانچ کروائے گی تاکہ معلوم ہوسکے آگ کیسے لگی؟ وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نوٹیفائے کریں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں شہید ہونے والے فائر فائیٹر کا والد بھی فائر فائیٹر تھا اور وہ بھی شہید ہوئے تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گل پلازہ واقعہ میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کو فوری معاوضہ دینا چاہتا ہوں، انھوں نے بتایا کہ گل پلازہ متاثرین کے لیے کمیٹی قائم کردی، کمیٹی معاوضہ کی رقم اور متاثرین کی بحالی پر سفارشات دے گی۔
قائم کردہ کمیٹی میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور وزیر محنت، انسانی وسائل، سماجی تحفظ سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی حسن نقوی شامل ہیں۔
وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ تاجروں کی مشاورت سے بحالی کا کام کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کا بار بار فون آ رہا ہے، پیپلز پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ گل پلازہ کے تاجروں کو فوری بحال کیا جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ طویل مدتی فائر فائیٹنگ اور دیگر حفاظتی اقدام کا مکمل پلان دے کر عملدرآمد کریں گے، جن عمارتوں میں ایمرجنسی راستہ نہیں ہے اور فائر الارم نہیں ہیں ان کو یقینی بنایا جائے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزراء کو ہدایت کی کہ گل پلازہ کے شہیدوں کے گھر جا کر ان سے تعزیت کریں۔