بھارتی جوڑوں میں سجی پاکستانی دلہنیں، پابندیاں صرف عوام کے لیے کیوں؟ خالد انعم کا کڑا سوال

image

معروف پاکستانی اداکار خالد انعم نے حال ہی میں ہونے والی دو ایلیٹ شادیوں میں دلہنوں کی جانب سے بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہننے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں دو شاہانہ شادیوں نے سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی۔ ایک طرف تالپور خاندان کی شادی تھی جس میں عاطف اسلم، راحت فتح علی خان اور عابدہ پروین جیسے بڑے فنکار شریک ہوئے جبکہ دوسری طرف نواز شریف خاندان کی شادی نے اپنے منفرد اسٹائل اور ملبوسات کی وجہ سے خبروں میں جگہ بنائی۔ اس شادی میں دلہن شانزے علی روحیل نے اپنی مہندی اور برات پر بھارتی ڈیزائنرز سبیاسچی مکھرجی اور ترن تہلیانی کے ڈیزائن کردہ جوڑے پہنے۔ اسی طرح سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق عائشہ تالپور نے بھی اپنی شادی پر منیش ملہوترا کا لباس زیب تن کیا۔

خالد انعم نے کہا کہ وہ اس بات پر کنفیوژ ہیں کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت پر پابندی ہے تو پھر یہ بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات کیسے حاصل کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں سنا کہ پنجاب اور سندھ میں ہونے والی دو شاہانہ شادیوں میں دلہنوں نے بھارتی ڈیزائنرز کے لباس پہنے۔ اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ تجارت کھلی ہونی چاہیے۔ لیکن ابھی کچھ عرصہ پہلے دونوں ممالک کے درمیان تنازع ہوا تھا اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی سامنے آئے تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب تجارت باضابطہ طور پر کھل چکی ہے؟

خالد انعم نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی عمر سعید اور بنتو قاضی جیسے بہترین ڈیزائنرز موجود ہیں۔ میں خود ڈیزائنر کپڑوں کا شوقین نہیں مجھے سادہ لباس پسند ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کے لیے جائز ہے؟ کیا عام لوگ بھی یہ کپڑے خرید سکتے ہیں؟ اور یہ کپڑے خریدے کیسے گئے؟ کیا آن لائن منگوائے گئے؟ ہمیں جاننا چاہیے کہ کیا پابندی ختم ہو گئی ہے یا یہ صرف عام آدمی کے لیے ہے جبکہ چند منتخب لوگوں کو سہولت حاصل ہے۔ میں واقعی کنفیوژ ہوں۔

سوشل میڈیا صارفین بھی اس معاملے پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر پابندیاں صرف عام شہریوں کے لیے ہوتی ہیں جبکہ ایلیٹ طبقہ بدستور تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US