گل پلازہ جو کراچی کا ایک قدیم اور معروف شاپنگ کمپلیکس تھا 1980 کی دہائی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا ہفتے کی رات تقریباً 10 بجے اچانک آگ لگ گئی۔ آگ نے عمارت کے چاروں جانب تیزی سے پھیلتے ہوئے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں مگر آگ کی شدت کے باعث موثر مدد نہیں کر سکیں۔
اطلاعات کے مطابق آگ کے باعث عمارت کے کچھ حصے بھی گر گئے اور اس وقت تک تقریباً 59 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایک فائر فائٹر بھی اس سانحے میں جان کی بازی ہار گیا۔
سانحے پر پاکستان کے عوام اور شوبز شخصیات بھی غمزدہ ہیں۔ منال خان، ساجد علی،ایمن خان، نادیہ حسین، حنا طارق، انمول بلوچ اور دیگر نے انسٹاگرام پر اپنے جذبات اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ مشی خان اور ریحام خان نے ویڈیوز کے ذریعے نہ صرف غم کا اظہار کیا بلکہ حکومتی لاپرواہی پر بھی سوال اٹھایا۔
مشی خان نے سانحے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین سے تعزیت کی اور اعلیٰ حکام کی غفلت پر تنقید کی۔
ریحام خان نے کہا کہ گل پلازہ نہیں جلا، کراچی جلا ہے۔
نادیہ حسین نے بھی اپنی پوسٹ میں حکومتی غفلت پر سوال اٹھایا۔
سانحے میں جاں بحق فائر فائٹر فرقان کے پیچھے بیوی اور ایک ننھا بچہ رہ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ایک وائس نوٹ بھی گردش کر رہی ہے۔
کراچی والے اس افسوسناک سانحے سے گہرا صدمہ محسوس کر رہے ہیں اور متاثرین کے لیے دعاؤں کی اپیل کر رہے ہیں۔