ایران کے پاس دنیا کی 16ویں طاقتور ترین فوج ہے۔ اس کی فوجی طاقت سے ہٹ کر ایران کا جغرافیائی محل وقوع بھی اسے فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کے صدام حسین ایران کو شکست دینے میں ناکام رہے تھے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی مظاہروں میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا ہےحال ہی میں ایسا محسوس ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ خدشہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب امریکہ نے ایران کے حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کی۔
امریکہ نے قطر میں اپنے ’العدید‘ ایئر بیس سے کچھ فوجیوں کو واپس بلانے کے احکامات بھی جاری کیے۔ العدید ایئربیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے۔
ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکہ سخت کارروائی کرے گا، تاہم گذشتہ جمعرات کی شام ایران سے یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ گرفتار مظاہرین کے خلاف پھانسیوں جیسے سخت اقدامات زیر غور نہیں ہیں۔
ان ایرانی بیانات کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں قتل و غارت بند ہو گیا ہے اور مظآہرین کو پھانسیاں دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘ اس کے فوراً بعد امریکہ نے العدید ایئر بیس کے لیے جاری ہائی سکیورٹی الرٹ کی ایڈوائزری پر نظر ثانی کی اور الرٹ کی سطح کو کم کر دیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ بدھ کو اس اڈے سے ہٹائے گئے امریکی فوجی طیارے اب آہستہ آہستہ واپس آ رہے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان اور ان اقدامات کے بعد بیشتر مبصرین نے تجزیہ پیش کیا کہ مشرق وسطیٰ میں انتہائی کشیدگی کی صورتحال اب بتدریج نارمل ہونے کی طرف جا رہی ہے۔
تاہم اگلے ہی روز معروف اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی اُس خبر نے عالمی توجہ حاصل کی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی فوج ایران پر حملے کے لیے تیار نہیں ہے۔
بی بی سی فارسی نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’امریکی حکام کو خفیہ طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ امریکی فوج محدود اختیارات اور صلاحیتوں کی وجہ سے ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ’ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کو صرف اس صورت میں ایران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی جب وہ (ایرانی) حکومت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ضمانت دے سکیں۔‘
تاہم بعدازاں امریکی حکام نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ ایسی ضمانتیں نہیں دے سکتے اور خبردار کیا کہ فوجی کارروائی ایک بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے جو ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے اور ایران کی طرف سے سخت ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
ایران کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا نہیں، اس الجھن کے درمیان ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ میں بھی ایسے ہی اشارے دیے گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیان بازی کو ایک طرف رکھ دیں، تو سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فوجی آپشن ٹرمپ کے وعدوں کو پورا نہیں کر سکتا۔ ’اگر امریکہ علامتی حملہ بھی کر دے تو وہ اتنا کمزور ہو گا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔‘
اگرچہ مبصرین کے مطابق بظاہر یہ بحران فی الوقت ٹل گیا ہے لیکن دفاعی ماہرین نے اس دوران یہ تجزیے بھی کیے کہ ایران کا جغرافیائی محل وقوع اس کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف ’ڈیٹرنس‘ فراہم کرتا ہے اور یہ بھی کہ ایران نے گذشتہ چند ماہ میں اپنے دفاعی نظام میں بھی بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، جو امریکی حکام کے زیر غور آئی ہوں گی۔
ایران کتنا مضبوط ہے؟
ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے جون 2025 کے حملوں کے بعد سے اپنی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے (فائل فوٹو)ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی گذشتہ مہینوں کے دوران کئی مواقع پر یہ بتا چکے ہیں کہ ایران نے گذشتہ کچھ عرصے میں خود کو کتنا مضبوط کیا ہے۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کے مطابق، امیر حاتمی نے کہا کہ ’آج ایرانی مسلح افواج جون 2025 میں (ایران کے ساتھ) 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں بہت زیادہ تیار ہیں۔ یہ جنگ ایرانی فوج کے لیے ایک منفرد تجربہ تھی، جس نے ہماری طاقت میں اضافہ کیا، فوجیوں کی تربیت کی سطح کو بلند کیا اور مختلف یونٹوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو بڑھایا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران نے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے اور ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے۔‘
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور آئی سی ڈبلیو اے کے سینیئر فیلو ڈاکٹر فضل الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سچ ہے کہ ایران کا جغرافیائی محل وقوع ہمیشہ اس کے لیے فائدہ مند رہا ہے۔ ماضی میں بھی ایران کو اس کی وجہ سے تزویراتی طور پر فائدہ ہوا ہے۔‘
’تاہم، جدید جنگ میں زمینی حملے کا امکان کم ہے۔ امریکہ کے پاس بی ٹو بمبار طیارے اور متعدد خطرناک میزائل موجود ہیں جو فضائی حملے کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ زمینی حملے کی منصوبہ بندی کرتے وقت ایران کے جغرافیائی محل وقوع کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایران پر حملہ کرنا کیوں مشکل ہے؟
ٹرمپ نے گذشتہ سال قطر کے العدید ایئر بیس کا دورہ کیا تھا (فائل فوٹو)انگریزی اخبار دی گارڈین کے مطابق ’وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو پکڑنے کے بعد ٹرمپ نے پرجوش انداز میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کی۔‘
’لیکن امریکہ نے اس کے لیے کوئی فوجی تیاری نہیں کی ہے۔ درحقیقت ایران کے ارد گرد موجود امریکی افواج کو پچھلے چند مہینوں میں کم کر دیا گیا ہے، اُن کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اکتوبر 2025 کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں کوئی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات نہیں کیا گیا ہے۔‘
اور اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ایرانی حکومت کے اہداف یا ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر اپنے طور پر حملہ نہیں کر سکتا۔
ایسا کرنے کے لیے امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے ممالک میں فضائی اڈے استعمال کرنا ہوں گے، اور ایران پہلے ہی ان ممالک کو خبردار کر چکا ہے۔
امریکہ کے پاس ایک اور طریقہ ہے، یعنی بی ٹو بمبا کا استعمال، جسے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے گذشتہ سال استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم یاد رہے کہ اس امریکی حملے کے بعد ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اُس حملے میں اس کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی تھیں۔
ڈاکٹر فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’امریکہ نے اکتوبر میں خطے سے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز واپس بلا لیے تھے، جس سے ایران کو کچھ ریلیف ملا تھا۔ لیکن اب امریکہ ایک بار پھر اپنے طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ حملے کی صورت میں ان کا استعمال کیا جائے۔ امریکہ ایران کے پڑوسی ممالک کے فوجی ایئربیس باآسانی استعمال کر سکتا ہے۔‘
ایران کا جغرافیائی محل وقوع جو تاریخی طور پر ایک چیلنج رہا ہے
1980 کی دہائی میں عراقی فوج طویل جنگ کے باوجود ایران کو شکست دینے میں ناکام رہی (فائل فوٹو)ایران کا جغرافیائی محل وقوع اس کی سب سے بڑی طاقت رہا ہے۔
اٹلس آف وار کے مطابق، ایران مضبوط قدرتی سرحدوں سے گھرا ہوا ہے جو دشمن کے لیے ایک اہم رکاوٹ ہیں اور یہ ایران کا ایک قدرتی دفاعی حصار ہے۔
ملک کے شمال میں بحیرہ کیسپین (بحیرہ قزوین)، جنوب میں خلیج فارس اور خلیج عمان اور مشرق اور مغرب میں صحرا اور پہاڑ ہیں۔ زاگرس پہاڑی سلسلہ مغرب میں واقع ہے اور البرز پہاڑ شمال میں واقع ہیں۔
یہ کسی بھی دشمن کی فوج کے لیے اہم مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر ان پہاڑوں نے اکثر حملہ آور فوجوں کو ناکام بنایا ہے ۔
ایران اور عراق میں 1980 کی دہائی میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ صدام حسین کی افواج نے 1980 میں ایران پر حملہ کیا۔ تاہم زاگرس پہاڑی سلسلے کی وجہ سے عراقی فوج ایران میں زیادہ پیش قدمی کرنے میں ناکام رہی۔
صدام حسین کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ پہلے اہواز (تیل کا ایک اہم علاقہ) پر قبضہ کریں گے اور پھر پہاڑوں کو عبور کر کے ایران میں آگے بڑھیں گے، لیکن یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔
قدرت ایک زبردست رکاوٹ ثابت ہوئی اور جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ آخر کار کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکا اور دونوں فریقین نے اپنے طور پر دعوے کیے۔
اسی طرح اگر کوئی مشرق سے ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو اسے دشت لوت اور دشت کویر جیسے وسیع صحراؤں کو عبور کرنا ہو گا۔ یہ صحرا کسی بڑے فوجی آپریشن کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
پہاڑوں اور صحراؤں کے علاوہ ایران سمندر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز بہت تنگ ہے اور اس پر ایران کا کنٹرول ہے۔
یہ دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اس تنگ راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے یہ ایران کے لیے کسی بھی بڑے تنازع میں ایک اہم ہتھیار ہے۔
آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کو دنیا کی تیل کی سپلائی بند کرنے کی اجازت دے سکتا ہے اور مبصرین کے مطابق اسی خوف سے ایران کے دشمن اس پر حملہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
ایران کی فوجی طاقت
2022 میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میکنزی نے کہا 'ایران کے پاس 3000 سے زیادہ بیلسٹک میزائل ہیں۔ اس میں کروز میزائلوں کی تعداد شامل نہیں ہے' (فائل فوٹو)گلوبل فائر پاور کے مطابق ایران عالمی سطح ہر سب سے بڑی 20 فوجی طاقتوں میں شامل ہے۔ 145 فوجی طاقتوں میں سے یہ 16ویں نمبر پر ہے۔
ایران کے پاس 610,000 فعال ڈیوٹی پر موجود فوجی اہلکار اور 350,000 ریزرو فورسز ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تعداد تقریباً 960,000 ہے۔
جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی جی آر سی) ایک الگ یونٹ ہے جو غیر روایتی جنگ میں مہارت رکھتا ہے۔ ایران کے پاس 551 لڑاکا طیارے ہیں۔
بغیر پائلٹ کے فضائی وہیکلز میں ایران کا شمار دنیا کے بہتر ممالک میں ہوتا ہے۔ ایران کے پاس 147 بحری اثاثے ہیں جن میں 25 آبدوزیں بھی شامل ہیں۔
ایران واچ کی رپورٹ کے مطابق ایران کا میزائلوں کا ذخیرہ مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ ہے۔
سنہ 2022 میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میکنزی نے کہا ’ایران کے پاس 3000 سے زیادہ بیلسٹک میزائل ہیں۔ اس میں کروز میزائلوں کی تعداد شامل نہیں ہے۔‘
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق سنہ 2024 میں ایران کا دفاعی بجٹ 7.9 ار ڈالر تھا، جو کہ ملک کے جی ڈی پی کا تقریباً دو فیصد ہے۔ سنہ 2023 میں ایران کے فوجی اخراجات تقریباً 10.3 ارب ڈالر تھے۔
ایران فوجی اخراجات کرنے میں دنیا میں 34ویں نمبر پر ہے۔ ایران نے 2025 کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں لیکن وہ اپنے دفاعی بجٹ میں 200 فیصد اضافہ کر کے اسے 16.7 ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے اور اس کے دفاعی اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں (علامتی تصویر)اگرچہ امریکہ اور ایران کی فوجی طاقت کے درمیان ایک بہت بڑا فرق ہے تاہم امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے، جو گلوبل فائر پاور انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے۔
امریکہ کے پاس 1.328 ملین فعال اور ڈیوٹی پر موجود فوجی جبکہ 799,000 ریزرو فوجی ہیں۔ سنہ 2005 سے امریکہ عالمی فائر پاور انڈیکس میں مسلسل پہلے نمبر پر ہے۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی درجہ بندی میں بھی امریکہ پہلے نمبر پر ہے جس کا تخمینہ ہے کہ سنہ 2024 میں امریکی دفاعی بجٹ 997 ارب ڈالر تھا۔
یہ امریکی جی ڈی پی کا 3.4 فیصد ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکہ کی فوجی طاقت میں بہت فرق ہے لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کے باوجود ایران پر حملہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔
افشون اوسٹوور، نیوی پوسٹ گریجویٹ سکول میں قومی سلامتی کے امور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ایران پر حملہ نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ایران کے مخالفین ایران سے خوفزدہ ہیں۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی جنگ بہت سنگین جنگ ہو گی۔‘
انڈیا کے دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کا خیال ہے کہ ’ایران کے پاس امریکہ سے لڑنے کے لیے میزائل اور ڈرون موجود ہیں، لیکن ایران کے لڑاکا طیارے طویل عرصے سے غیر فعال ہیں اور اس کی بحری طاقت بھی اوسط ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی حملہ ہوتا ہے اور ایران جوابی کارروائی کرتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ امریکی اور اتحادی اہداف کے خلاف میزائل استعمال کرے۔ دوسری طرف امریکہ کے پاس کافی فوجی طاقت ہے اور اسے اسرائیل کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے خطے سے بخوبی واقف ہے اور وہ امریکہ کی ہر طرح سے مدد کر سکتا ہے۔‘