ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا اور مینزیس ایوی ایشن کے چیئرمین حسن الہوری سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے، بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وزیر خزانہ اور اے ڈی بی کے صدر کے درمیان ملاقات میں پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے کہا کہ پاکستان معاشی تبدیلی کے اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اصلاحات میں تیزی اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے اے ڈی بی کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو سراہا اور ملکی معیشت کی سمت پر اعتماد ظاہر کیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور اے ڈی بی کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی، شرح سود میں نرمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ملاقات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، جدید کاری اور صاف و پائیدار توانائی کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی اور دونوں فریقین نے ان شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس سے قبل وزیر خزانہ نے مینزیس ایوی ایشن کے چیئرمین حسن الہوری سے ملاقات کی، جس میں ایوی ایشن کے شعبے میں سرمایہ کاری، ہوائی اڈوں کی خدمات میں بہتری اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے حوالے سے تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کو حکومتی انتظام سے آزاد کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ نجی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنایا جا سکے۔