جنوبی کوریا کے سابق وزیرِ اعظم ہان ڈک سو کو معزول سابق صدر یون سوک یول کی بغاوت میں معاونت اور سہولت کاری کے جرم میں 23 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
چائنا ڈیلی کے مطابق سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم ہان کو یہ سزا بغاوت میں مدد کرنے اور سابق صدر یون کی جانب سے مارشل لا کے اعلان سے متعلق بغاوت کے اہم امور میں کردار ادا کرنے پر سنائی۔
سابق صدر کے خلاف بغاوت اور دیگر الزامات کی تحقیقات کی قیادت کرنے والی آزاد وکیل چو ان سوک کی ٹیم نے ہان کے لیے 15 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت نے اس بات کی تصدیق کی کہ 3 دسمبر 2024 کو معزول سابق صدر یون سوک یول کی جانب سے ہنگامی مارشل لا کا اعلان آئینی نظام کو سبوتاژ کرنے کے مقصد سے کی گئی بغاوت کے مترادف تھا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ سابق وزیرِ اعظم ہان نے غیر قانونی کابینہ اجلاس منعقد کر کے اس غیر قانونی مارشل لا کو قانونی حیثیت دینے کا ایک ظاہری جواز فراہم کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ہان نے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھائی ہوتیں تو بغاوت کو روکا جاسکتا تھا۔ عدالت نے زور دیا کہ ہان نے اپنی حفاظت کے لیے مارشل لا سے متعلق دستاویزات چھپائیں، جبکہ مارشل لا کو قانونی طریقہ کار کے مطابق ظاہر کرنے کے لیے دستاویزات میں رد و بدل کیا اور بعدازاں انہیں تلف بھی کردیا۔
سزا سنائے جانے کے بعد عدالت نے شواہد ضائع کیے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر ہان کو کمرہ عدالت ہی میں حراست میں لینے کا حکم دیا۔