پاکستان میں فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے بھی مہنگا: سونے کی قیمت میں اضافے کا عالمی رجحان کب تک برقرار رہے گا؟

دنیا بھر میں معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں سونا خرید رہے ہیں جس کے نتیجے میں سونے کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
سونا
Getty Images

پاکستان میں بدھ کے روز سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور پہلی مرتبہ فی تولہ سونے کی قیمت نے پانچ لاکھ روپے کی حد عبور کی ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بدھ 21 جنوری کودس گرام سونے کی قیمت 10 ہزار 888 روپے کے اضافے کے بعد چار لاکھ 34 ہزار 123 روپے تک پہنچ گئی۔

اس طرح سونے کی فی تولہ قیمت میں 12 ہزار 700 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ قیمت پانچ لاکھ چھ ہزار چھ سو بتیس روپے فی تولہ ہو گئی۔

اس اضافے کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہے جو 127 ڈالر فی اونس اضافے کے بعد 4840 ڈالر فی اونس کی سطح تک چلا گیا۔

صحافی تنویر ملک کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتیں عموماً عالمی نرخوں کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی اونس اضافی پریمیم کے ساتھ طے کی جاتی ہیں۔ یہ پریمیم زرِمبادلہ کی صورتحال، درآمدی و مالیاتی اخراجات اور مقامی مارکیٹ کے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

سونے کی تجارت سے وابستہ افراد کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ جیو پولیٹیکل حالات ہیں جو دنیا میں سرمایہ کاروں کو سونے میں پیسہ لگانے کی جانب راغب کر رہے ہیں۔

کراچی طارق روڈ جیولرز ایسوی ایشن کے صدر عبد اللہ چاند نے بی بی سی کو بتایا کہ سونے کی قیمت میں اضافے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے امریکہ اور یورپ کے درمیان گرین لینڈ تنازعے کی وجہ سے عالمی مارکیٹوں میں اس وقت گھبراہٹ ہے اور سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونا خرید رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسی طرح چین میں اگلے مہینے نئے چینی سال کی آمد اور تعطیلات کی وجہ سے وہاں اس وقت سونے کی خریداری کا رجحان بھی ہے جو عالمی سطح پر قیمت میں اضافے کا سبب بنا۔

سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی قیمت مالیاتی بحران یا معاشی گراوٹ کے دوران کم ہونے کے بجائے برقرار رہنے یا بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔

سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ 1970 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے جو گذشتہ برس اپریل سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے اعلان کے بعد سے عالمی تجارت متاثر ہوئی اور یہ اضافہ ان پابندیوں کے علاوہ شرحِ سود میں کمی کے اعلانات کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔

سنگاپور کے بینک او سی بی سی کے ماہر کرسٹوفر وونگ کے مطابق امریکہ کی حکومتی بندش سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ بنی۔

ماضی میں بھی جب امریکہ میں حکومت بند ہوئی تھی، سرمایہ کاروں نے سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی طرف رجوع کیا تھا۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ایک ماہ کی بندش کے دوران سونے کی قیمت میں تقریباً چار فیصد اضافہ ہوا تھا۔

یو او بی بینک کے ماہر ہینگ کون ہاؤ کے مطابق ’سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ تجزیہ کاروں کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔‘

ان کے مطابق اس اضافے کی ایک وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور عام سرمایہ کاروں (جنھیں ریٹیل انویسٹرز کہا جاتا ہے) کی بڑھتی دلچسپی بھی ہے۔

ہر کوئی سونا خرید کر اس کے سکے یا بسکٹ نہیں رکھتا۔ کچھ سرمایہ کار مالیاتی مصنوعات جیسے کہ گولڈ ای ٹی ایف (ایکسچینج-ٹریڈ فنڈز، ای ٹی ایف) میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جن کے پس پشت سونا ہوتا ہے۔

قیمتی دھاتوں کے ڈیلر اور سٹوریج فراہم کرنے والی کمپنی سلور بلین کے بانی گریگر گریگرسن کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ان کے صارفین کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔

سرمایہ کار اکثر اپنے سونے کو اس بینک میں رکھتے ہیں جو انھیں محفوظ سٹوریج فراہم کرتے ہیں
Getty Images
سرمایہ کار اکثر اپنے سونے کو اس بینک میں رکھتے ہیں جو انھیں محفوظ سٹوریج فراہم کرتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’عالمی معیشت کی غیر یقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار، بینک اور امیر خاندان اب سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔‘

گریگرسن کے مطابق ’ہمارے زیادہ تر صارفین طویل عرصہ تک سونا اپنے پاس رکھتے ہیں۔‘ انھوں نے وضاحت کی کہ ان کے صارفین کی اکثریت چار سال سے زیادہ عرصہ تک سونا محفوظ رکھتے ہیں۔

لیکن کیا سونے کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب لوگ جاننا چاہتے ہیں۔

گریگرسن کہتے ہیں کہ ’کسی نہ کسی وقت پر سونے کی قیمت میں گراوٹ ہو گی لیکن میرا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں کم از کم اگلے پانچ سال تک کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کی امید ہے۔‘

جیسا کہ انھوں نے کہا سونے کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ کمی بھی واقع ہوتی رہتی ہے۔ او سی بی سی سے تعلق رکھنے والے مسٹر وونگ کا کہنا ہے کہ ’سونے کی قیمت میں عام طور پر اس وقت کمی ہوتی ہے جب شرح سود میں کمی کی جائے یا پھر بین الاقوامی تنازعات یا سیاسی غیر یقینی میں کمی ہو۔‘

مثال کے طور پر گذشتہ برس اپریل میں اس وقت سونے کی قیمت میں چھ فیصد تک کمی ہوئی تھی جب ٹرمپ نے جیروم پاول کو ہٹانے کے فیصلے کو ترک کر دیا تھا۔

مسٹر وونگ کا کہنا ہے کہ سونے کو عام طور پر غیر یقینی کے خلاف تحفظ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ نقصان بھی دے سکتا ہے۔

یو او بی کے مسٹر ہینگ کا کہنا ہے کہ 2022 میں ایسا ہی ہوا تھا جب سونے کی قیمت فی اونس عالمی منڈی میں دو ہزار ڈالر سے کم ہو کر 1600 ڈالر پر آ گئی تھی جب امریکی مرکزی بینک نے شرح سود کو بڑھا کر افراط زر پر قابو پانے کی کوشش کی جو کورونا کی وبا کے بعد شروع ہوئی تھی۔

ان کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافے کے رجحان کو درپیش ایک خطرہ موجودہ وقت میں بھی مہنگائی کی شرح میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے جس کے باعث امریکی بینک شرح سود کو بڑھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

مسٹر وونگ کے مطابق فی الحال یہ توقع کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں کمی کی جائے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو سونے کی جانب زیادہ لوگ راغب ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مرکزی بینک پر دباؤ بڑھا رکھا ہے اور انھوں نے تنقید کی ہے کہ شرح سود کو زیادہ تیزی سے کم نہیں کیا جا رہا۔ انھوں نے گورنر لیزا کک کو بھی ہٹانے کی کوشش کی تھی۔

مسٹر وونگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مرکزی بینک کو تنقید کا نشانہ بنانے سے اس بینک پر اعتماد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ایسے ماحول میں سونے میں دلچسپی اور اس کا غیر یقینی معاشی صورت حال میں کردار اور اہم ہو سکتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US