کراچی کے گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی کے دوران جاں بحق ہونے والے 73 افراد کی باقیات کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔
کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا ہے کہ باڈی 2000 ڈگری درجہ حرارت پر جلنے کی وجہ سے شناخت میں دشواری ہورہی ہے، انھوں نے کہا کہ ہم 16 باقیات کا ڈی این اے لے ہی نہیں پائے ہیں، ان 16 باقیات میں کچھ ایسی چیز نہیں بچی تھی جس سے ڈی این لیا جاسکے۔
ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ ایک سائنٹیفک مرحلہ ہے لیکن ایسے کیسز میں مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، 73 باقیات کا ڈی این اے رپورٹ آنے میں کتنا وقت لگے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
شناخت کے لیے ایک ایک ڈی این اے ٹیسٹ تین تین مرتبہ کیا جارہا ہے، ایک ایک باقیات سے کئی بار ڈی این اے سیمپل لیے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہم صرف ڈی این اے پر کام کررہے ہیں، سندھ فارنزک لیب ایک مرتبہ ٹیسٹ مکمل کرلے، اگر ڈی این اے سے شناخت نہ ہوسکی تو ہم دوسرے طریقے کار کی طرف جائیں گے۔
کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ آج 23 جاں بحق افراد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا جائے گا۔