ریسکیو 1122 راولپنڈی کے اہلکار نے فرض شناسی، پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ انسانی ہمدردی کی مثال قائم کرتے ہوئے اسکول جاتے ہوئے بچھڑ جانے والی 8 سالہ طالبہ کو بحفاظت اس کے والد سے ملا دیا۔
بدھ کی صبح ریسکیو اہلکار نصیب اللہ خان نائٹ شفٹ مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا کہ چکلالہ ریلوے اسٹیشن اسٹاپ کے قریب انہیں ایک کم عمر بچی تنہا، روتی اور شدید گھبرائی ہوئی حالت میں ملی۔ بچی اسکول جاتے ہوئے اپنی بہنوں سے بچھڑ گئی تھی، اسے اپنے گھر کا مکمل پتہ معلوم تھا نہ ہی والدین کا کوئی رابطہ نمبر یاد تھا۔
ریسکیو اہلکار نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کو بحفاظت ریسکیو 1122 کے سینٹرل اسٹیشن، چاندی چوک منتقل کیا۔ بعد ازاں بچی کے اسکول بیگ اور کتابوں کی جانچ پڑتال کے دوران ایک موبائل نمبر ملا، جو اس کے والد کا نکلا۔ ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم نے فوری طور پر اہلِ خانہ سے رابطہ قائم کیا۔
بچی کی گمشدگی پر والدین شدید پریشانی کا شکار تھے، تاہم بروقت کوآرڈینیشن کے نتیجے میں بچی کے والد کنٹرول روم پہنچے، جہاں تمام ضروری تصدیق کے بعد بچی کو بحفاظت ان کے حوالے کردیا گیا۔
اس موقع پر بچی کے والد نے ریسکیو اہلکار نصیب اللہ خان اور ریسکیو 1122 کے تمام عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ذاتی طور پر ممنون ہوں کہ میری بیٹی کو بحفاظت میرے پاس پہنچایا گیا۔ نصیب اللہ خان میرے ہیرو ہیں اور قوم کے ایسے ہیروز کو سلام پیش کرتا ہوں“۔
ریسکیو 1122 راولپنڈی نے والدین سے اپیل کی ہے کہ کم عمر بچوں کے اسکول بیگ یا یونیفارم پر والدین کا نام اور موبائل نمبر ضرور درج کریں، بچوں کو گھر کا پتہ اور رابطہ نمبر یاد کروائیں اور اسکول جاتے وقت ممکنہ حد تک چھوٹے بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں۔
علاوہ ازیں عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی لاوارث، گمشدہ یا مشکل میں مبتلا بچے کو دیکھنے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر اطلاع دیں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جاسکے۔