منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے ماسٹر محمد ایوب نے آج سے 46 برس قبل اسلام آباد میں یتیم، نادار اور مستحق بچوں کو تعلیم دینے کا جو عزم کیا، وہ آج ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ محدود وسائل، شدید مشکلات اور مسلسل رکاوٹوں کے باوجود ماسٹر محمد ایوب نے تعلیم کا چراغ جلائے رکھا اور سینکڑوں بچوں کی زندگیاں بدل دیں۔
ماسٹر محمد ایوب 1980 میں اسلام آباد منتقل ہوئے جہاں محکمہ تعلیم میں بطور استاد تقرری کے بعد ایف-6 سیکٹر میں رہائش اختیار کی۔ ان کے گھر کے سامنے کچی آبادی "کرسچین کالونی" واقع تھی، جہاں انہوں نے دیکھا کہ بچے تعلیم سے محروم، جوئے اور لڑائی جھگڑوں میں مبتلا ہیں۔ اسی منظر نے ان کے دل کو رنجیدہ کیا اور انہوں نے ان بچوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ کرلیا۔
ماسٹر محمد ایوب بتاتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے ایک بچے کو اپنی والدہ سے لڑتے دیکھا، ماں بے بسی سے رو رہی تھی۔ انہوں نے بچے کو تعلیم کی پیشکش کی اور تمام اخراجات اٹھانے کی یقین دہانی کروائی، مگر بچے نے انکار کیا اور ان پر تشدد بھی کیا جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔
چند دن بعد دوبارہ اسی بستی میں گئے تو وہی ماں اور بچہ رو رہے تھے، وجہ یہ تھی کہ بچے نے ایک امیر شخص کے بیٹے کو مارا تھا اور پولیس معاملے میں ملوث ہوچکی تھی۔ ماں کی فریاد سن کر ماسٹر محمد ایوب نے شرط رکھی کہ اگر بچہ تعلیم حاصل کرنے کا وعدہ کرے تو وہ پولیس کا معاملہ سنبھال لیں گے۔ یوں اس بچے کی زندگی نے نیا رخ لیا، اور وہی پہلا طالبعلم بنا جس سے یہ تعلیمی مشن شروع ہوا۔
ماسٹر محمد ایوب کے مطابق، آج جس جگہ تعلیمی مرکز قائم ہے وہاں کبھی ایک درخت اور کچی زمین ہوا کرتی تھی۔ سامنے شاعر احمد فراز مرحوم کی رہائش گاہ تھی، جنہوں نے اس مشن میں بھرپور اخلاقی تعاون کیا۔ تاہم، اس راہ میں مشکلات بھی کم نہ تھیں۔ سی ڈی اے کے افسران، پولیس اور یہاں تک کہ جاسوسی کے الزامات بھی لگائے گئے، جس کی انکوائری چھ سال تک جاری رہی، مگر انہوں نے تدریس کا سلسلہ نہیں چھوڑا۔
بالآخر تحقیقات مکمل ہوئیں تو ماسٹر محمد ایوب کو نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کے ادارے میں مسلمان، مسیحی اور ہندو طلبہ بلا تفریق تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آج ان کے سینکڑوں شاگرد مختلف سرکاری محکموں، بشمول سی ڈی اے اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹس میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ابتدائی دنوں میں بارش اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، مگر مخیر حضرات کے تعاون سے ایک کنٹینر اسکول بنایا گیا، جس میں ڈیسک، شیڈ، پانی اور ٹوائلٹس کی سہولت فراہم کی گئی۔ احمد فراز مرحوم کے خط پر سی ڈی اے نے بھرپور تعاون کیا اور تعلیمی مرکز کو سہولیات دی گئیں۔
آج اس مرکز میں ساڑھے تین سو سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ ماسٹر محمد ایوب کو حال ہی میں ملائیشیا میں بھی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ اپنی تنخواہ کو تین حصوں میں تقسیم کرتے رہے: ایک بچوں پر، دوسرا گھر پر اور تیسرا اپنی ذات پر۔ ریٹائرمنٹ کے پانچ سال بعد بھی وہ اپنی پنشن کا حصہ بچوں پر خرچ کر رہے ہیں۔
ماسٹر محمد ایوب کا کہنا ہے کہ آج ان کے کئی سابق طلبہ خود بھی بچوں کو پڑھاتے اور ان کی کفالت کرتے ہیں۔ انہوں نے عزم کر رکھا ہے کہ آخری سانس تک اس تعلیمی مشن کو جاری رکھیں گے۔
آخر میں انہوں نے حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ بچوں کے لیے ڈیسک، اسٹیشنری اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ نئی نسل کو پیغام دیا کہ تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
ماسٹر محمد ایوب نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ پر کیا: "پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔"