وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ گداگری اب ایک منظم پیشہ بن چکی ہے اور یہ ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا کاروبار بن چکا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ بھیک منگوانے کے لیے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو بچوں، عورتوں اور جعلی معذور افراد کو بھرتی کر کے کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی ٹھیکیدار مافیا بھیک مانگنے والوں کو خلیجی ممالک بھی بھیجتا ہے جس کے باعث بعض خلیجی ممالک نے پاکستانی ویزے بند کر دیے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ائیرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ بھی اس کاروبار میں حصہ دار ہے اور مال کما رہا ہے۔ سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے آکر ہوٹلوں میں مقیم رہ کر یہ دھندہ کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس کی حالیہ کارروائیوں سے اس کاروبار میں کمی آئی ہے، لیکن اب بھی بھکاریوں کی موجودگی قابلِ دید ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں بظاہر اچھے کھاتے پیتے لوگ ہی بھکاریوں کے ٹھیکیدار ہیں، اور جب گداگروں پر کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو یہ ٹھیکیدار سفارشی بن کر پیش آتے ہیں۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ یہ گھناؤنا کاروبار ملک بھر میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کر رہا ہے اور انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر اس کا تسلسل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروبار کے ساتھ کئی دیگر گھناونے دھندے بھی جڑے ہوئے ہیں۔