وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں انڈس اے آئی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان مشترکہ وژن، عزم اور جوش کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انڈس اے آئی ویک ملک کے ٹیکنالوجیکل منظرنامے کو بدل دے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا نصاب نہ صرف وفاق کے زیرانتظام تعلیمی اداروں میں متعارف کرایا جائے گا بلکہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے اسکولوں اور کالجز میں بھی شامل کیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو ڈیجیٹل معیشت اور قیادت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی تاکہ عالمی معیار کا مضبوط تحقیقی نظام قائم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ایک خصوصی پروگرام کے تحت آئی ٹی سے وابستہ نہ ہونے والے 10 لاکھ افراد کو بھی اے آئی کی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی جس سے روزگار کے مواقع اور معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے اور انڈس اے آئی ویک پاکستان کو ایک مضبوط ٹیکنالوجی پارٹنر کے طور پر دنیا کے سامنے لائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں سے 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کے ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں، تاہم درست پالیسیوں کے ذریعے پاکستان اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔