نیشنل میڈیکل سینٹر اور لائف ہیلتھ کیئر کلینکس کراچی کے کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ریحان عمر نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ رمضان سے قبل طبی معائنہ کروائیں، صحت سے متعلق آگاہی حاصل کریں اور مقدس مہینے کے دوران جسم میں پانی کی کمی سے بچیں۔
انہوں نے کہا کہ رمضان میں روزہ رکھنے والوں کے لیے فائبر سے بھرپور، نمک اور گلیسیمک انڈیکس میں کم متوازن اور صحت بخش غذا نہایت ضروری ہے جبکہ ورزش کرنے کے خواہشمند افراد کو افطار کے بعد ورزش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
یہ بات انھوں نے بدھ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی)، جامعہ کراچی کے عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”رمضان میں ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں“ کے موضوع پر ایل ای جے نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر کے لیکچر ہال میں منعقدہ لیکچر کے دوران کہی۔
لیکچر کا انعقادڈاکٹر پنجوانی سینٹر اور سندھ انوویشن، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن نیٹ ورک (سائرن) کے باہمی تعاون سے ہوا۔ اس موقع پر بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے مہمان مقرر کا خیرمقدم کیا۔
ڈاکٹر ریحان عمر نے کہا کہ اگرچہ بعض افراد رمضان میں وزن کم کرتے ہیں لیکن رمضان کے چند ہفتوں بعد دوبارہ وزن بڑھ جانا عام بات ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ رمضان کے بعد وزن بڑھنے سے بچنے کے لیے منظم اور مستقل طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ رمضان میں ورزش کرنا غیر محفوظ یا بے فائدہ ہے اور کہا کہ جسمانی طاقت اور دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مقدس مہینے میں بھی باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔
انہوں نے سحری اور افطار کے وقت کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں کے زیادہ استعمال سے خبردار کیا اور رمضان کے دوران صحت مند اور ہائیڈریٹ رہنے کے لیے غذائی مشاورت کی سفارش کی۔ پاکستان میں ذیابیطس کے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی سب سے زیادہ شرح رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں کم از کم 463 ملین افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن مریضوں کو شدید اور قابو میں نہ آنے والا بلڈ پریشر، حالیہ دل کا دورہ، شدید دل کی بیماریاں، دل کے والو کی شدید خرابی، شدید ہارٹ فیلئر، قابو میں نہ آنے والی دل کی دھڑکن یا جان لیوا امراض کا خطرہ ہو انہیں روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گردوں کے مریض ڈاکٹر کی نگرانی اور باقاعدہ جانچ کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل ڈایابیٹیز فیڈریشن اور ڈایابیٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل الائنس نے ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے روزے سے متعلق جامع رہنما اصول جاری کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رمضان موٹاپے کے علاج کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر صحت مند طرزِ زندگی کی وجہ سے پاکستان میں دل کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رمضان میں بھرپور روحانی و سماجی شرکت ڈپریشن، بے چینی اور ذہنی دباؤ میں کمی لانے کے ساتھ یادداشت اور مجموعی ذہنی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔