اسلام آباد کے 60 سالہ حکیم بابر نے اپنے مطب میں ملازمت کرنے والی ایک خاتون سے محبت کی بنیاد پر نکاح کر کے معاشرتی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حکیم بابر کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور پھر باقاعدہ طور پر خاتون کے والدین سے رشتہ مانگ کر نکاح کیا۔
حکیم بابر کے مطابق مذکورہ خاتون گزشتہ دو سال سے ان کے مطب میں ملازمت کر رہی تھیں اور وہ شروع دن سے انہیں پسند کرتے تھے، تاہم اظہارِ محبت سے ہچکچاتے رہے۔ ایک دن ہمت کر کے انہوں نے خاتون کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تو خاتون نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ والدین سے بات کریں۔ حکیم بابر نے بتایا کہ خاتون کے والدین فوری طور پر اس رشتے پر رضامند ہو گئے کیونکہ خاتون پہلے سے طلاق یافتہ تھیں۔
حکیم بابر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پہلی اہلیہ کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کیا، جس پر پہلی بیگم نے ایک شرط رکھی کہ دونوں بیویاں ایک ساتھ رہیں گی۔ حکیم بابر کے مطابق انہوں نے یہ شرط قبول کرلی جس کے بعد نکاح مکمل ہوا۔
حکیم بابر نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر محبت کو حلال اور شرعی طریقے سے نکاح کے ذریعے اپنایا جائے تو یہ معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرتی رسم و رواج اور غیر ضروری رکاوٹیں اکثر لوگوں کو غلط راستوں کی طرف دھکیلتی ہیں، جبکہ اسلام نے نکاح کو آسان اور پاکیزہ رشتہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے پیغام دیا کہ عمر یا حالات کا فرق اہم نہیں بلکہ نیت کی سچائی اور رشتے کی قانونی و شرعی حیثیت زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق نکاح کو آسان بنا کر معاشرے کو برائیوں سے بچایا جا سکتا ہے اور محبت کو باعزت راستہ دیا جاسکتا ہے۔