موٹر سائیکلوں کے لیے ایم ٹیگ لازمی قرار، رجسٹریشن سینٹرز پر عوام کا رش

image
< p> وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی اقدامات کے تحت گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگوانا لازمی قرار دیے جانے کے بعد شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مختلف مراکز پر طویل قطاریں لگ گئیں۔

حکومت کی جانب سے یہ اقدام شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور سیکیورٹی نظام کو منظم بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ کی تنصیب کا عمل شروع کر رکھا ہے، جو گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ہے۔

@AshrafChaudhry

ذرائع کے مطابق ایم ٹیگ لگوانے کی آخری تاریخ چند روز قبل ختم ہونے والی تھی، تاہم اسلام آباد انتظامیہ نے شہریوں کو سہولت دینے کے لیے اس میں توسیع کرتے ہوئے نئی تاریخ 5 مارچ مقرر کر دی ہے۔

سبزی منڈی پوائنٹ پر باری کے انتظار میں کھڑے سیکڑوں موٹرسائیکل سواروں کے باعث صورتحال خاصی تشویشناک ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ صبح ساڑھے پانچ بجے سے قطاروں میں کھڑے ہیں، کچھ افراد سحری کر کے آئے، بعض نے وہیں نماز ادا کی، جبکہ کئی افراد نے سحری بھی موقع پر ہی کی تاکہ جلد نمبر آ سکے۔

روزہ دار شہریوں نے شکایت کی کہ عملہ صبح نو بجے ڈیوٹی پر پہنچتا ہے جبکہ وہ فجر سے پہلے سے لائن میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاؤنٹر صرف ایک ہے اور اکثر اوقات صرف ایک اہلکار موجود ہوتا ہے، جس کے باعث کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔ مزید برآں، شام پانچ بجے کاؤنٹر بند کر دیا جاتا ہے، جس سے سینکڑوں افراد کو بغیر ایم ٹیک لگوائے واپس لوٹنا پڑتا ہے۔

بائکیا چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ ان کی روزی روٹی کا انحصار موٹر سائیکل پر ہے۔ اگر وہ پورا دن لائن میں گزار دیں تو بچوں کے لیے روزمرہ اخراجات کیسے پورے کریں؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹیکس دینے اور حکومتی احکامات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انتظامی نااہلی کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں نے ڈائریکٹر ایکسائز بلال خان اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ نظام کو منظم و مربوط بنایا جائے، عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور نیٹ ورک و کمپیوٹر سسٹم کو بہتر کیا جائے تاکہ بار بار خرابی سے بچا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ عوام کو سہولت فراہم کریں تاکہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی مشکلات کا ازالہ بھی ممکن ہو سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US