اسلام آباد کے شہریوں کے لیے موٹر سائیکل ایم ٹیگ نئی مصیبت بن گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ایم ٹیگ کاغذی شکل میں جاری کیا گیا اور اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان سے فی بائیک 250 روپے وصول کیے گئے، لیکن اب انتظامیہ کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ نیا ایم ٹیگ دراصل ایک چِپ پر مشتمل ہوگا جس میں تمام معلومات اور فیچرز شامل ہوں گے۔
شہریوں کے مطابق وہ صبح سحری کے وقت ایم ٹیگ بوتھس پر قطاروں میں لگ جاتے ہیں اور رات گئے تک انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کا نمبر آ جائے، لیکن اس کے باوجود کئی لوگوں کو کامیابی نہیں ملتی۔ خصوصاً وہ افراد جو موٹر سائیکل پر دیہاڑی لگا کر اپنے گھروں کا نظام چلاتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال شدید مشکلات کا باعث بن گئی ہے کیونکہ پورا دن لائن میں لگنے کی وجہ سے ان کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اب جب نئی چِپ والا ایم ٹیگ متعارف کروایا جا رہا ہے تو پہلے جاری کیے گئے کاغذی ایم ٹیگ کو غیر مؤثر سمجھا جا رہا ہے، جس سے ان کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوگئے ہیں۔
انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق جس موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ نصب نہیں ہوگا اسے اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار روپے تک جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
متاثرہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ پہلے ہی واضح پالیسی بنائے اور براہ راست چِپ والا ایم ٹیگ فراہم کرے تاکہ شہریوں کا وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو اور انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔