امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تہران کے ساتھ کسی معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جن کے نتائج کا فی الحال انتظار ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کوششیں ناکام ہوجائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا پہلے ہی ایران کو مکمل شکست دے کر یہ جنگ جیت چکا ہے، اس لیے مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے اس سے ان کی پوزیشن پر اثر نہیں پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا اور بتایا کہ امریکی مشینری ان بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے کام میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیجنگ کو بھی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین نے ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی تو اسے سنگین مسائل اور نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چائنا نے ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق چین ایران کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز فراہم کرنے کی تیاری کررہا ہے، جن میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل سسٹمز (MANPADS) بھی شامل ہیں۔ ان رپورٹس کی تصدیق عالمی میڈیا اداروں سی این این اور رائٹرز نے بھی کی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ممکن ہوئی تھی۔
امریکی صدر کے اس بیان نے ایک ایسے وقت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جب عالمی برادری اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات سے کسی مثبت بریک تھرو کی امید لگائے بیٹھی تھی۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ بھی خطے میں تناؤ بڑھا رہا ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 8 اپریل کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا، اس پر امریکا میں برآمد ہونے والی تمام اشیاء پر فوری 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
تاحال چینی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔