پاکستان کی سفارتی پیش رفت پر بھارت میں بے چینی، بیانیے اور حقیقت میں فرق کیا ہے؟

image

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے تیز ہوتی سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی سیاست کو ایک نئی سمت دی ہے، جبکہ بھارتی میڈیا اور بعض تجزیہ کاروں کے حلقوں میں اس پیش رفت پر واضح بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خاص طور پر آرمی چیف عاصم منیر کے غیر متوقع دورۂ ایران اور اسلام آباد میں جاری سفارتی رابطوں کو بھارت میں ایک بڑے جغرافیائی تبدیلی کے اشارے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس اور ویڈیوز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس سے نہ صرف خطے میں اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی میڈیا کے بعض حلقے اس صورتحال کو بھارت کے لیے سفارتی چیلنج کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان واقعی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارتی بیانیے میں اس پیش رفت کو بعض اوقات ”پینک“ یا گھبراہٹ کے الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے، حالانکہ اس دعوے کی کوئی واضح اور مستند سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی کئی مواقع پر ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی وہ اسی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی کا مقصد بظاہر خطے میں کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے، نہ کہ کسی ایک ملک کے خلاف محاذ بنانا۔

تاہم بھارتی تجزیہ کار اس پیش رفت کو اپنے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جہاں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کو ایک اسٹریٹجک مقابلے کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا بیانیے میں اسے ایک خطرے یا دباؤ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو بھی سفارتی کوششیں ہو رہی ہیں، ان کا حتمی مقصد امن کا قیام ہونا چاہیے۔ پاکستان کی حالیہ سرگرمیاں اسی وسیع تر تناظر کا حصہ ہیں، تاہم انہیں کس زاویے سے دیکھا جاتا ہے، یہ ہر ملک کے اپنے سیاسی اور سفارتی مفادات پر منحصر ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US