امجد طہٰ کا متنازع بیانیہ، پاکستان اور ایران کے خلاف پراپیگنڈا قرار

image

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرنے والے امجد طہٰ ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہیں، جہاں ان کے حالیہ بیانات کو اسلام، پاکستان اور خطے کے خلاف منظم بیانیہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے ایک بحری واقعے کو بنیاد بنا کر ایران کو نشانہ بنایا اور پاکستان کے کردار کو بھی ایک مخصوص انداز میں پیش کیا۔

امجد طہٰ نے اس واقعے کو ”ریاستی دہشت گردی“ اور ”قزاقی“ قرار دیتے ہوئے ایک پاکستانی جہاز اور بھارت سے منسلک جہاز کے درمیان موازنہ پیش کیا، جبکہ بھارت کے مؤقف کو سراہا۔ ناقدین کے مطابق یہ موازنہ نہ صرف غیر متوازن ہے بلکہ اس کا مقصد پاکستان کے مثبت کردار کو کمزور دکھانا اور ایک خاص بیانیہ مسلط کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا حامی رہا ہے، جبکہ ایسے بیانات پاکستان کے مؤقف کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔ اسی طرح ایران کے حوالے سے بھی ایک محدود واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا حقائق کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مسلم ممالک کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعض حلقوں کے مطابق امجد طہٰ کا بیانیہ اسرائیلی قیادت، خصوصاً نیتن یاہو کی پالیسیوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے، جہاں خطے میں ایران اور دیگر مسلم ممالک کو تنہا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی معلوماتی مہمات دراصل امتِ مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنے اور باہمی بداعتمادی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز ایک حساس عالمی گزرگاہ ہے جہاں مختلف ممالک معمول کے مطابق نگرانی کرتے ہیں، لہٰذا کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر اسے غیر معمولی خطرہ قرار دینا محض کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی پالیسی کو اس تناظر میں پیش کرنا بھی حقیقت سے ہٹ کر قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ امارات عمومی طور پر متوازن اور محتاط سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

مجموعی طور پر ناقدین کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف پاکستان اور ایران کے خلاف منفی فضا پیدا کرتے ہیں بلکہ عالمِ اسلام کے اتحاد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں ذمہ دارانہ اور متوازن رپورٹنگ ناگزیر ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جاسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US