راولپنڈی میں ان دنوں ایک دلچسپ معاشی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں شہری بڑی تعداد میں ایرانی ریال خریدنے کے لیے منی ایکسچینجرز کا رخ کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معمولی پاکستانی روپوں کے عوض لاکھوں اور کروڑوں ایرانی ریال حاصل کیے جا رہے ہیں، جس نے عوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس امید کے تحت یہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا اور انہیں مالی فائدہ حاصل ہوگا۔
شہریوں کے مطابق “آج کم پیسوں میں کروڑوں ریال مل رہے ہیں، کل یہی ہماری خوشحالی کا سبب بن سکتے ہیں”، تاہم ماہرین اس سوچ کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کرنسی کی اصل قدر اس کی قوتِ خرید اور ملک کی مجموعی معاشی صورتحال سے وابستہ ہوتی ہے، نہ کہ نوٹوں کی تعداد سے۔ ان کے مطابق بغیر تحقیق کے ایسی سرمایہ کاری نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی مالی فیصلے سے قبل مکمل معلومات حاصل کریں اور محتاط حکمت عملی اپنائیں۔
یہ رجحان ایک جانب شہریوں کی بہتر مستقبل کی امیدوں کو ظاہر کرتا ہے، تو دوسری طرف مالی شعور اور حقیقت پسندی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔