راولپنڈی: بینظیر بھٹو اسپتال کے بیسمنٹ میں جمع پانی سے عمارت کمزور، تعفن سے سانس لینا دوبھر

image

بینظیر بھٹو اسپتال کے بیسمنٹ میں دہائیوں سے جمع پانی کے باعث تعفن پھیلنے سے عمارت کی ساخت اور مریضوں کی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسپتال کی او پی ڈی بلڈنگ کے بیسمنٹ میں طویل عرصے سے پانی جمع ہے، جس کے باعث دیواریں بوسیدہ اور بنیادیں کمزور ہوچکی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ بیسمنٹ گزشتہ 16 سے 17 برس سے بند ہے اور وہاں جمع پانی کے نکاس کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ اسپتال کی 60 سال سے زائد پرانی عمارت کی خستہ حالی کے باعث اسے مریضوں، ڈاکٹروں اور عملے کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں اسپتال کی اپگریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز بھی جاری کیے گئے، تاہم بیسمنٹ کی بہتری کے حوالے سے ان فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے تعفن اور آلودگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیسمنٹ میں موجود پانی سیوریج نہیں بلکہ زیر زمین قدرتی سیپج ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شرجیل سرفراز کے مطابق پانی صاف ہے اور اس میں کسی قسم کی بدبو یا گندگی شامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیسمنٹ کو سیپج میں اضافے کے باعث استعمال سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ پانی کے اخراج کے لیے پمپس نصب ہیں جو باقاعدگی سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی پھیلاؤ سے متعلق خدشات بے بنیاد ہیں اور ہسپتال میں تمام احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

ایم ایس کے مطابق اس مسئلے سے متعلق متعلقہ محکموں اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کو متعدد بار آگاہ کیا جاچکا ہے، اور حالیہ ہدایات کے بعد احتیاطی اقدامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق بیسمنٹ کی خستہ حالی اور مسلسل نمی عمارت کی مضبوطی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جس کے لیے مستقل اور فوری حل ناگزیر ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US