راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے عالمی سطح کے باڈی بلڈر شیخ صدیق نے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کرنے کے باوجود شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
شیخ صدیق نے مختلف ورلڈ باڈی بلڈنگ مقابلوں میں نو ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی اور متعدد مواقع پر قومی پرچم کو بلند کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومتی سطح پر مطلوبہ سرپرستی اور سہولیات حاصل نہیں ہوسکیں۔
کھلاڑی کے مطابق وہ طویل عرصے سے اپنے ذاتی اخراجات پر بیرونِ ملک مقابلوں میں شرکت کرتے رہے، جبکہ ان کے ادارے کی جانب سے صرف 3947 روپے کا معمولی چیک جاری کیا گیا، جو ان کی خدمات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔
شیخ صدیق اس وقت کرائے کے مکان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ماہانہ 30 ہزار روپے کرایہ ادا کرنا بھی ان کے لیے مشکل بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دیگر کھیلوں، خصوصاً باڈی بلڈنگ میں بھی بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، جسے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔
شیخ صدیق نے پاکستان کی حکومت، اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ قومی سطح پر ایسے کھلاڑیوں کی مالی معاونت اور حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مستقبل میں بھی بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرسکیں۔