لوساکا، زیمبیا میں غیر منظور شدہ 'ایشین لیجنڈز کپ' میں شرکت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے وابستہ چند ملازمین سمیت متعدد سابق پاکستانی کھلاڑیوں کو پابندیوں کے امکانی خطرے کا سامنا ہے۔
پی سی بی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر منظور شدہ ایشین لیجنڈز ایونٹ میں حصہ لینے والے کسی بھی کھلاڑی (یا کھلاڑیوں) کی چھان بین کی جائے گی اور انہیں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں منظور شدہ غیر ملکی کرکٹ لیگز یا ایونٹس میں شرکت کے لیے پی سی بی کی جانب سے این او سی (عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ) کے اجرا پر دو (02) سال کی پابندی بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتھ کسی بھی کرکٹنگ، کوچنگ، کنسلٹنسی، مینٹورنگ اور/یا دیگر تفویض کردہ ذمہ داریوں کے لیے دو (02) سال کی مدت کے لیے نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا۔"
'ایشین لیجنڈز کپ' میں حصہ لینے والے 'پاکستان پینتھرز' کے اسکواڈ میں متعدد معروف کھلاڑیوں کے نام شامل تھے، تاہم ایک بااعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ کھلاڑیوں نے ایونٹ کے غیر منظور شدہ ہونے کا علم ہونے پر—جن میں سے کچھ تو زیمبیا پہنچنے کے بعد—خود کو الگ کرلیا تھا۔
ان کھلاڑیوں میں محمد حفیظ، شعیب ملک، وہاب ریاض، سہیل تنویر، عمر اکمل وغیرہ شامل تھے۔ تاہم 31 جولائی کو ایشین الیون کے خلاف میچ میں میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں میں عمران نذیر، توفیق عمر، محمد عرفان، راحت علی، یاسر شاہ، زاہد محمود، حسن رضا اور ابرار حسین شامل تھے اور اب انہیں تمام کرکٹ سرگرمیوں سے دو سال کے لیے بین کیے جانے کے امکان کا سامنا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ توفیق عمر حال ہی میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کے عہدے پر فائز رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑی بھی ڈومیسٹک سرکٹ پر متحرک رہے ہیں۔ مزید برآں، منتظمین کی جانب سے اس ٹورنامنٹ کو منگل کے روز اچانک ختم کردیا گیا۔
پی سی بی نے کہا کہ اس نے زیمبیا میں منعقدہ 20ویں ایشین لیجنڈز لیگ 2026 میں بعض سابق پاکستانی کرکٹرز کی شرکت کا سخت نوٹس لیا ہے۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ "انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) 'ایونٹس کی منظوری اور کھلاڑیوں کی رہائی سے متعلق آئی سی سی قوانین' کے تحت اس لیگ کو غیر منظور شدہ/غیر تصدیق شدہ کرکٹ ایونٹ قرار دیتی ہے اور اس ٹورنامنٹ کو زیمبیا کرکٹ یونین (زیڈ سی یو) کی جانب سے بھی منظوری نہیں دی گئی تھی۔"
پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی کے قوانین کی پاسداری اور کھیل کی سالمیت اور گورننس کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ بورڈ اس بات کو دہراتا ہے کہ تمام موجودہ اور سابق کرکٹرز جو ایسے غیر ملکی کرکٹ ایونٹس میں شرکت کے خواہش مند ہیں جن کے لیے پی سی بی کی کلیئرنس درکار ہوتی ہے، انہیں شرکت سے قبل ضروری منظوری اور این او سی حاصل کرنا ہوگا۔
پی سی بی کھیل کو چلانے والے بین الاقوامی ریگولیٹری فریم ورک کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے آئی سی سی اور دیگر ممبر بورڈز کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھے گا۔