بابر کے آؤٹ ہونے کے بعد عبداللہ شفیق نے 160 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلتے ہوئے پاکستان کو پہلی اننگز میں 387 رنز تک پہنچایا جس سے ٹیم کو 43 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔ لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی بلے باز زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکا۔

سابائنا پارک، جمیکا میں جب تیسرے دن پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو تمام نگاہیں بابر اعظم پر مرکوز تھیں، جو 86 رنز کے ساتھ بیٹنگ کر رہے تھے اور تقریباً چار برس بعد اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری سے بہت قریب دکھائی دیتے تھے۔۔۔۔ امید کی جا رہی تھی کہ وہ عبداللہ شفیق کے ساتھ بڑی اننگز کھیلیں گے۔
مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔۔۔
شاندار بیٹنگ کے باوجود بابر اعظم 88 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے اور ان کے مداحوں کا سنچری دیکھنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔
بابر کے آؤٹ ہونے کے بعد عبداللہ شفیق نے 160 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلتے ہوئے پاکستان کو پہلی اننگز میں 387 رنز تک پہنچایا جس سے ٹیم کو 43 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔ لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی بلے باز زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکا۔
البتہ دن کے دوسرے حصے میں پاکستان سپنرز نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا۔۔۔ ساجد خان اور علی عثمان کی تباہ کن سپن باؤلنگ نے پاکستان کو ڈرائیونگ سیٹ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ویسٹ انڈیز نے دن کا آغاز اعتماد کے ساتھ کیا تھا، لیکن آخری نصف گھنٹے میں تین اہم وکٹوں کے نقصان نے میچ کا نقشہ بدل دیا ہے۔
کھیل کے اختتام پر میزبان ٹیم دوسری اننگز میں 103 رنز پر چھ وکٹیں گنوا چکی تھی اور پاکستان میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے سے محض 60 کی رنز پر ہے۔
آخری سیشن میں پاکستانی سپنرز کا شاندار کم بیک، ویسٹ انڈیز مشکلات کا شکار
تیسرے دن کے آغاز پر بابر اعظم 86 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے اور سنچری کے قریب دکھائی دے رہے تھے، تاہم وہ 88 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد عبداللہ شفیق نے ذمہ داری سنبھالتے ہوئے 160 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، لیکن ان کے علاوہ پاکستانی مڈل اور لوئر آرڈر زیادہ مزاحمت نہ کر سکا اور ایک کے بعد ایک وکٹیں گرتی چلی گئیں۔ پاکستان کی باقی چار وکٹیں صرف 21 رنز کے اضافے پر گریں۔
کرکٹ تجزیہ کار ڈینیئل الیگزینڈر نے پاکستانی بیٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا کوئی پاکستانی انٹرنیشنل کرکٹ میچ نہیں ہوتا جس میں بیٹنگ لائن کا لڑکھڑا جانا نہ دیکھنے کو ملے۔
پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 387 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور اسے 43 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔
کرکٹ کمنٹیٹر عاطف نواز نے ایکس پر لکھا کہ روایتی مڈل آرڈر کی ناکامی کے باوجود پاکستان نے تیسرے روز کا اختتام مضبوط انداز میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ اس دن کے اصل ہیرو عبداللہ شفیق رہے، جو 160 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ ساجد خان کی چار وکٹوں اور علی عثمان کی مؤثر باؤلنگ نے پاکستان کو برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ویسٹ انڈیز نے محتاط انداز میں دوسری اننگز کا آغاز کیا۔۔ برینڈن کنگ کمر کی انجری کے باعث اوپننگ نہ کر سکے، جس کے بعد کیویم ہوج نے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں اوپننگ کی ذمہ داری سنبھالی اور ٹیگنارائن چندرپال کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا۔
دونوں اوپنرز نے پہلی وکٹ کے لیے 44 رنز بنائے، تاہم پاکستانی سپنرز کے میدان میں آتے ہی میچ کا رخ بدل گیا۔ ساجد خان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے پہلے چندرپال کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جنھوں نے 17 رنز بنائے تھے۔
اس کے بعد عامر جنگو اور ہوج نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن ساجد خان نے جنگو کو بولڈ کر کے پاکستان کو دوسری کامیابی دلائی۔ جنگو 13 رنز بنا سکے۔
کیویم ہوج، جو ویسٹ انڈیز کی جانب سے سب سے نمایاں بلے باز رہے، نے 34 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن وہ علی عثمان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
ویسٹ انڈیز کے تجربہ کار بلے باز شائی ہوپ اور روسٹن چیز نے چوتھی وکٹ بہتر شراکت بنانے کی کوشش کی، مگر ساجد خان نے ایک بار پھر ہوپ کو 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس کے فوری بعد نائٹ واچ مین جیڈن سیلز بھی بغیر کوئی رن بنائے ساجد خان کا شکار بن گئے۔
دن کے اختتام سے چند لمحے قبل پاکستان کو ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ملی جب علی عثمان نے روسٹن چیز کو 17 رنز پر کیچ اینڈ بولڈ کر دیا اور یوں ویسٹ انڈیز کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔
تیسرے روز کے اختتام پر جسٹن گریوز ایک رن کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔
پاکستان کی جانب سے ساجد خان سب سے کامیاب باؤلر رہے، جنھوں نے 32 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ علی عثمان نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 29 رنز دے کر دو وکٹیں لیں۔
ویسٹ انڈیز کے باؤلنگ کوچ راوی رامپال کا کہنا ہے کہ اگر ان کی ٹیم پاکستان کو مشکل ہدف دینا چاہتی ہے تو اسے اپنی برتری 150 رنز سے زیادہ کرنا ہوگی۔
دوسری جانب پاکستانی کیمپ پُراعتماد نظر آ رہا ہے کیونکہ پچ مسلسل سپنرز کے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہے اور تیسرے روز کے آخری نصف گھنٹے میں پاکستان کی تین وکٹوں نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا ہے۔
میچ کا فیصلہ کل ہونے کا امکان ہے اور جیت کی صورت میں پاکستان مسلسل آٹھ بیرونِ ملک ٹیسٹ شکستوں کا سلسلہ توڑنے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔
بابر کی سنچری نہ بننے کا دکھ اور عبداللہ شفیق کی ’کلاس‘ بیٹنگ کے چرچے
سوشل میڈیا پر بابر اعظم کے مداح ان کی سنچری پوری نہ ہونے پر خاصے دکھی نظر آتے ہیں۔
سلمان نامی صارف نے بابر اعظم کے آؤٹ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: بابر اعظم کے لیے دل دکھی ہے۔ ’وہ 88 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے اور اپنی دسویں ٹیسٹ سنچری بنانے سے محروم رہ گئے۔‘
تاہم دوسری جانب کرکٹ تجزیہ کاروں سے لے کر شائقین تک سبھی عبداللہ شفیق کی شاندار اننگز کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔
انڈیا کے کرکٹ کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے عبداللہ شفیق کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’عبداللہ شفیق کی بیٹنگ دیکھ رہا ہوں۔ ان کی بیٹنگ میں بے پناہ کلاس ہے۔‘
کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو نے عبداللہ شفیق کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ وہ 1977 میں ماجد خان کے 167 رنز کے بعد ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ اننگز میں 150 سے زائد رنز بنانے والے پہلے پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔
کرک انفو کے مطابق پاکستان کی جانب سے حالیہ عرصے میں بیرونِ ملک ٹیسٹ کرکٹ میں بنائے گئے آخری چار 150 پلس سکورز میں سے تین عبداللہ شفیق کے نام ہیں، جو غیر ملکی سرزمین پر ان کی شاندار مستقل مزاجی کا ثبوت ہے۔
’ساجد خان سپنرز کے شعیب اختر ہیں‘
سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین پاکستانی سپین بالروں کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔
فرید خان نے ساجد خان کی بالنگ کو سراہتے ہوئے ایکس پر لکھا ’ساجد خان نے پہلی اننگز میں چار اور دوسری اننگز میں اب تک چار وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ گذشتہ آٹھ ٹیسٹ میچوں میں ان کے وکٹوں کی مجموعی تعداد 52 ہو چکی ہے۔‘
انھوں نے لکھا ’ساجد خان ایک حقیقی فائٹر ہیں۔‘
کرکٹ جنون نے ایکس پر تبصرہ کیا کہ ’سپنرز میں ساجد خان وہی حیثیت رکھتے ہیں جو فاسٹ باؤلرز میں شعیب اختر کی تھی۔‘
ایک اور صارف نےایکس پر لکھا ’ساجد خان کی شاندار آف سپن باؤلنگ نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا ہے۔ میچ پر گرفت مضبوط ہونے کے بعد پاکستان کے پاس اب کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کرنے کا بہترین موقع موجود ہے۔‘
دوسرے روز کا احوال: عبداللہ شفیق کی سنچری، بابر اعظم کی فارم میں واپسی اور سیالکوٹ کا چرچا
اس سے قبل پورٹ آف سپین میں دوسرے روز کا کھیل پاکستان کے نام رہا تھا۔۔۔ جہاں عبداللہ شفیق نے ناقدین کو سنچری سے جواب دیا وہیں بابر اعظم بھی فارم میں واپس نظر آئے اور ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کو دن بھر بے بس بنائے رکھا۔
عبداللہ شفیق نے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کو یادگار بناتے ہوئے اپنے کیریئر کی چھٹی ٹیسٹ سنچری سکور کی جبکہ بابر اعظم دسمبر 2022 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 161 رنز کی اننگز کے بعد اپنا سب سے بڑا ٹیسٹ سکور بنانے میں کامیاب رہے۔
دن کے اختتام پر عبداللہ شفیق 107 رنز بنا کر جبکہ بابر اعظم 86 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کی شراکت 168 رنز تک پہنچ چکی تھی۔
پورٹ آف سپین کے کوئنز پارک اوول میدان میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں دو وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنائے تھے۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں 344 رنز بنائے تھے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے جسٹن گریوز 73 اور کپتان روسٹن چیز 70 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ برینڈن کنگ نے 46 اور شائی ہوپ نے 29 رنز سکور کیے۔
پاکستان کی جانب سے ساجد خان سب سے کامیاب باؤلر رہے جنھوں نے 85 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد علی، علی عثمان اور عبید شاہ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
’بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کو ایک ساتھ بیٹنگ کرتے دیکھنا بلے بازی کے حسن کی معراج ہے‘
پاکستانی اننگز کا آغاز محتاط انداز میں ہوا لیکن امام الحق صرف 14 رنز بنا کر شمر جوزف کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد اذان اویس اور عبداللہ شفیق نے دوسری وکٹ کے لیے 64 رنز بنائے۔ اوپنر اذان اویس نے اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری بنائی، ان کے 55 رنز میں 10 چوکے شامل تھے۔
اذان اویس کے آؤٹ ہونے کے بعد عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم ویسٹ انڈیز کے باؤلرز پر حاوی رہے۔
دونوں نے ذمہ دارانہ اور پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے ناقابل شکست 168 رنز کی شراکت قائم کی۔ عبداللہ شفیق نے 185 گیندوں پر 107 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور دو چھکے شامل تھے، جبکہ بابر اعظم 126 گیندوں پر 86 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں اور اپنی سنچری سے صرف 14 رنز دور ہیں۔
دن کے اختتام پر پاکستان کا سکور 66 اوورز میں 266 رنز تھا اور اس کی صرف دو وکٹیں گری تھیں۔ عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نہ صرف سیٹ ہوچکے تھے بلکہ ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے سکور سے محض 78 رنز دور تھے۔
کرکٹ اعداد و شمار اور ریکارڈز پر نظر رکھنے والے مظہر ارشد نے عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کی شراکت کو سراہتے ہوئے ایکس پر لکھا: ’بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کو ایک ساتھ بیٹنگ کرتے دیکھنا بلے بازی کے حسن کی معراج ہے۔‘
سیالکوٹ کی ادبی روایت اور ’کتابی‘ عبداللہ شفیق، این بشپ کا دلچسپ تبصرہ
میچ کے دوران ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ باؤلر اور معروف کرکٹ کمنٹیٹر این بشپ نے عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کی بیٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے سیالکوٹ کا ذکر بھی کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’کریز پر موجود ان دونوں بلے بازوں کے بارے میں دراصل ایک دلچسپ کہانی ہے۔ میں نے سیالکوٹ کے بارے میں سیموئل بدری سے بہت کچھ سنا ہے۔ سیالکوٹ بہترین شاعروں اور ادیبوں کی سرزمین بھی ہے۔ علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض اور پروین شاکر اسی شہر سے تعلق رکھتی ہیں۔‘
’اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عبداللہ شفیق کا نک نیم یا لقب ’کتابی‘ ہے، یعنی کتابوں کا شوقین۔ یہ لقب انھیں ان کی تحریروں یا کتابیں پڑھنے کی عادت کی وجہ سے نہیں ملا، بلکہ بابر اعظم نے انھیں یہ نام دیا ہے۔ اس کی وجہ سیالکوٹ کی ادبی روایت بھی نہیں، بلکہ ان کی بیٹنگ تکنیک کا بالکل نصابی (ٹیکسٹ بک) ہونا ہے۔‘
ایان نے مزید کہا کہ ’ان کی تکنیک انتہائی صاف ستھری اور مکمل دکھائی دیتی ہے۔ یوں عبداللہ شفیق اپنے انداز میں سیالکوٹ کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں، جو اس شہر کی بہترین روایات میں سے ایک ہے۔ اسی لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ شراکت آگے کس طرح پروان چڑھتی ہے۔‘
عبداللہ شفیق نے ’کلاسک سنچری سکور کرکے اپنے ناقدین کو خاموش کر دیا‘
سوشل میڈیا پر عبداللہ شفیق کی سینچری اور شاندار بلے بازی پر کرکٹ شائقین انھیں داد دے رہے ہیں۔
ایک کے نامی صارف نے لکھا ’عبداللہ شفیق بہترین کلاس، نفاست اور شاندار بلے بازی کی بہترین مثال ہیں۔ کیا زبردست کم بیک ہے۔‘
’واپسی کی پہلی ہی اننگز میں انھوں نے ایک کلاسک سنچری سکور کرکے اپنے ناقدین کو خاموش کر دیا ہے۔‘
صحافی ساجد صادق نے کہا کہ عبداللہ شفیق کا انٹرنیشنل کیریئر اُن لوگوں کی وجہ سے متاثر ہوا جنھوں نے انھیں تینوں فارمیٹس کا بلے باز سمجھ لیا تھا۔
ان کے مطابق ’عبداللہ شفیق کو ایک عمدہ ٹیسٹ بلے باز کے طور پر خود کو منوانے اور اس فارمیٹ میں اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع دینے کے بجائے انھیں محدود اوورز کی کرکٹ کا بلے باز بنانے کی کوشش کی گئی، جو بالآخر ناکامی کا نسخہ ثابت ہوا۔‘
میاں احمد نے عبداللہ کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’بہترین ٹائمنگ، بہترین کلاس۔ عبداللہ شفیق اس وقت کریز پر مکمل اعتماد اور کنٹرول کے ساتھ بیٹنگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘
زوحا نامی صارف نے لکھا ’صبر، ثابت قدمی، یقین اور بے پناہ محنت۔ آج کا یہ لمحہ عبداللہ شفیق کے نام ہے۔ یہ کتنی خوبصورت اننگز تھی، اور اس کا اختتام بھی کسی شاعرانہ منظر سے کم نہیں تھا؛ پورے اوور میں حریفوں کے طنزیہ جملوں کا سامنا کرنے کے بعد عبداللہ شفیق نے آخری گیند پر چوکا لگا کر اپنی سنچری مکمل کی۔‘
ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لینے والے محمد عباس کو بابر اعظم نے دوسرے میچ میں کیوں نہیں کھلایا؟
اس سے قبل سوشل میڈیا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر خاصا ردِعمل دیکھا گیا۔
ٹاس کے موقع پر جب کپتان بابر اعظم سے محمد عباس کو ڈراپ کرنے سے متعلق سوال ہوا تو اُنھوں نے کہا کہ پچ اور کنڈیشنز کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا۔