پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولن تھروور ارشد ندیم کو کامن ویلتھ گیمز میں اپنی مایوس کن کارکردگی پر قابو پانے کا موقع ملے گا، کیونکہ ان کا نام 21 اگست سے شروع ہونے والے 'لوزان ڈائمنڈ لیگ' کے مقابلے میں دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ارشد ندیم، جو کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو کے فائنل کے آخری آٹھ کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے، ڈائمنڈ لیگ کے اس مقابلے میں دنیا کے ٹاپ جیولن تھروورز کے مدِ مقابل ہوں گے، جن میں گلاسگو میں بالترتیب سلور اور گولڈ میڈل جیتنے والے بھارت کے نیرج چوپڑا اور سری لنکا کے رومیش پتھیرانا بھی شامل ہیں۔
ارشد کے قریبی ایک ذرائع کے مطابق کامن ویلتھ گیمز کے بعد وہ اپنے کوچ سلمان بٹ کے ساتھ ڈائمنڈ لیگ کی تربیت کے لیے سوئٹزرلینڈ چلے گئے تھے۔
ارشد کامن ویلتھ گیمز میں 80 میٹر کی حد بھی عبور کرنے میں ناکام رہے تھے، جو کہ 2024 کے پیرس اولمپکس اور 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 90 میٹر سے زیادہ کی تھرو پھینک کر گولڈ میڈل جیتنے والے اس پاکستانی ایتھلیٹ کی معیار سے کافی کم کارکردگی تھی۔
کامن ویلتھ گیمز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد انہیں وطن واپس شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے لیے انہوں نے لاہور میں تربیت حاصل کی تھی اور ایونٹ سے قبل سوئٹزرلینڈ میں صرف ایک تیاری کے مقابلے میں حصہ لیا تھا جہاں وہ نویں نمبر پر رہے تھے۔
نیرج اور پتھیرانا کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں میں جولیان ویبر، اینڈرسن پیٹرز، جیکب واڈلیچ اور دیگر شامل ہیں، جس کی وجہ سے ارشد کی موجودہ فارم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ایونٹ میں اپنا اثر چھوڑنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔