ضلع اٹک کے شہید لیاقت علی کی عظیم قربانی اہل علاقہ کے دلوں میں زندہ

image

ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں منکور میں وطن پر قربان ہونے والے بہادر سپوت ستارہ شجاعت شہید لیاقت علی کی قربانی آج بھی اہلِ علاقہ کے دلوں میں زندہ ہے۔ جب ہماری ویب کی ٹیم منکور پہنچی تو معلوم ہوا کہ شہید لیاقت علی کا گھر قریب ہی موجود ہے۔ وہاں پہنچنے پر وہ مقام بھی دیکھا گیا جہاں مبینہ خودکش دہشتگرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

گاؤں کے بیچوں بیچ واقع ایک چھوٹی سڑک کے قریب شہید لیاقت علی کا گھر موجود ہے، جبکہ اس آبادی میں تقریباً پینتیس افراد رہائش پذیر ہیں جن میں زیادہ تر شہید کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔

گھر پہنچنے پر تعزیت کے لیے آنے والے افراد موجود تھے۔ اہلِ خانہ سے ملاقات اور فاتحہ خوانی کے بعد گفتگو کا آغاز شہید کے کزن جابر خان سے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ شہید لیاقت علی گزشتہ سترہ برس سے ریلوے میں ملازمت کر رہے تھے۔ پیر 10 مئی کی دوپہر وہ اپنے قریبی کھیتوں میں موجود تھے کہ اسی دوران انہیں ایک مشتبہ شخص دکھائی دیا۔ لیاقت علی اس شخص کے قریب گئے اور اس سے بات چیت کی کوشش کی، مگر وہ غیر مقامی زبان میں گفتگو کررہا تھا۔ہم بھی قریبی کھیت میں اپنے روز مرہ کے کام کر رہے تھے۔

جابر خان کے مطابق شہید نے مشتبہ شخص سے شناختی کارڈ طلب کیا لیکن وہ بات نہ سمجھ سکا۔ اس پر لیاقت علی نے اپنی جیب سے اپنا شناختی کارڈ نکال کر اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنی شناخت ظاہر کرے۔ اسی لمحے دہشتگرد کو احساس ہو گیا کہ وہ پکڑا جا چکا ہے، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں لیاقت علی بھی موقع پر جامِ شہادت نوش کرگئے۔

اہلِ علاقہ کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر اٹک چیک پوسٹ قائم ہے جہاں کسٹمز، لوکل پولیس، رینجرز اور دیگر حساس اداروں کے اہلکار تعینات رہتے ہیں۔ جابر خان کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگرد چیک پوسٹ تک پہنچ جاتا یا آبادی کے اندر خودکش دھماکہ کرتا تو قیمتی انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق شہید لیاقت علی نے اپنی جان قربان کر کے سینکڑوں افراد کی زندگیاں بچائیں۔

شہید کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ لیاقت علی پانچ وقت کے نمازی، نرم دل اور درد رکھنے والے انسان تھے۔ جب ان کے دونوں بیٹوں عباس اور حسن علی سے گفتگو ہوئی تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے والد کی قربانی پر فخر ہے۔ دونوں بچوں نے خواہش ظاہر کی کہ گاؤں میں شہید لیاقت علی کے نام سے ایک ڈسپنسری اور ہائی اسکول قائم کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے قومی ہیرو کو ہمیشہ یاد رکھ سکیں اور ہمارا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے ہمارے گھر کے واحد کفیل ہمارے والد تھے۔

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ شہید لیاقت علی کی بہادری اور قربانی ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔ شہید کے گھر کا ہر کونا وطن سے محبت اور قربانی کی داستان سناتا ہے۔ خصوصی پروگرام کے دوران سابق وفاقی وزیر داخلہ شہریار آفریدی بھی شہید کے گھر پہنچے۔ انہوں نے ہماری ویب کی میڈیا ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ علاقوں میں جا کر شہداء کی قربانیوں کو دنیا تک پہنچانا بھی ایک قومی خدمت ہے۔

اہلِ علاقہ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ شہید لیاقت علی کے نام پر قائم چوکی کو ان سے منسوب کیا جائے۔ ساتھ ہی گاؤں میں ڈسپنسری، ہائی اسکول اور سوئی گیس کی فراہمی کے مطالبات بھی دہرائے گئے۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ گاؤں کے قریب سے سوئی گیس لائن گزرنے کے باوجود علاقہ آج بھی اس سہولت سے محروم ہے، لہٰذا شہید کے نام پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ان کی قربانی کو عملی خراجِ تحسین پیش کیا جاسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US