قومی اسمبلی میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، جبکہ ایوان میں اے آئی سسٹم کی لانچنگ تقریب بھی منعقد ہوئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے اور اس کے استعمال سے معاشرتی اور ادارہ جاتی امور میں بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں تمام سرکاری امور فائلوں کے ذریعے انجام دیے جاتے تھے جس کے باعث تاخیر ہوتی تھی، تاہم اب ٹیکنالوجی کی مدد سے اس نظام میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے اور کام تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں۔
ایاز صادق نے بتایا کہ اراکین قومی اسمبلی کو آئی پیڈز بھی فراہم کیے گئے تھے، تاہم ابتدائی طور پر کئی اراکین ان کے استعمال میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بے شمار کاغذات استعمال کیے جا چکے ہیں جو بعد میں ضائع ہو جاتے ہیں، اسی لیے قومی اسمبلی کو مرحلہ وار پیپر لیس بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بجٹ دستاویزات بھی انتہائی بھاری بھرکم ہوتی ہیں، جنہیں مستقبل میں ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں امور چلائے جاسکیں۔