اسرائیل کی جانب سے گرفتار کیے گئے سعد ایدھی اور ان کے ساتھیوں کی فوری رہائی کے لیے کراچی پریس کلب کے سامنے فیصل ایدھی کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی اقدام کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرے کے دوران سعد ایدھی کے اہلخانہ اور ورثا کا کہنا تھا کہ سعد ایدھی اور ایدھی فیملی نے ہمیشہ رنگ، نسل اور سرحدوں سے بالاتر ہو کر قوم اور انسانیت کی خدمت میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اب پاکستانی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ سفارتی سطح پر متحرک ہو کر انہیں ان کے ساتھیوں سمیت آزاد کروائے۔
احتجاج میں شریک دیگر افراد نے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعد ایدھی اور ان کے ساتھی خالصتاً انسانیت کے ناطے مظلوم فلسطینیوں تک امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کررہے تھے، ایسے میں اسرائیل کی جانب سے ان کی گرفتاری انتہائی شرمناک ہے۔
مقررین نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، حکومتِ پاکستان، اور خصوصاً محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خارجہ، سے مطالبہ کیا کہ سعد ایدھی کی فوری رہائی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
مظاہرے سے خطاب کرنے والوں میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی، پیپلز لیبر بیورو کےحبیب الدین جنیدی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڑیشن کے ناصر منصور، ترقی پسند دانشور ڈاکٹر اصغر علی دشتی، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی زہرا خان، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے قاضی خضر، پاکستان فشر فورک فورم کے سعید بلوچ ، آلٹرنیٹ کے احسن محمود ایڈووکیٹ، عاقب حسین، اقبال ابڑو، باسط ملک ایڈووکیٹ، بلاول خان، رابیل ابڑو، ہمت علی پھلپوٹو، اقصیٰ کنول، سائرہ فیروز اور دیگر شامل تھے۔