فلیٹس کی ملکیت اور مشترکہ رہائشی عمارتوں کے انتظام سے متعلق اہم بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا ہے، جس کے تحت فلیٹس کے مالکانہ حقوق اور انتظامی ڈھانچے کو قانونی تحفظ دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
بل کے مطابق فلیٹس کے مالکان کو انتظامی سروسز کے لیے اونرز ایسوسی ایشن بنانے کی اجازت ہوگی، جبکہ مشترکہ رہائشی عمارتوں میں رہائشی امور کو منظم کرنے کے لیے باقاعدہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔
مجوزہ قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ قدرتی آفات یا کسی حادثے کی صورت میں نقصان کے ازالے کے لیے انشورنس لازمی ہوگی، جبکہ متاثرہ افراد کو معاوضے میں مشترکہ ملکیت کے اصول کے تحت حقوق حاصل ہوں گے۔
بل کے مطابق اسلام آباد میں فلیٹس اور مشترکہ رہائشی عمارتیں مکمل طور پر قانون کے دائرہ کار میں آئیں گی۔ اس کے علاوہ بلڈرز پر لازم ہوگا کہ وہ ہر یونٹ کی ملکیتی دستاویز تین ماہ کے اندر خریدار کو فراہم کریں۔
یہ بل منظوری کے بعد فلیٹ مالکان کے حقوق کے تحفظ اور رہائشی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔