پاپا کی پری، ایمن سلیم کی ورلڈ ریکارڈ بنانے کی کہانی تنقید کی نذر ہوگئی

image

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی سابق اداکارہ ایمن سلیم ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، لیکن اس بار وجہ کوئی ڈرامہ یا نیا پروجیکٹ نہیں بلکہ ان کا ایک حالیہ انٹرویو ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ”پاپا کی پری“ قرار دینا شروع کردیا۔

”چپکے چپکے“ سے راتوں رات شہرت حاصل کرنے والی ایمن سلیم نے کم وقت میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔ انہوں نے ”ابنِ حوا“ اور ”پریستان“ جیسے ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ دسمبر 2023 میں انہوں نے قریبی خاندانی تقریب میں کامران ملک سے نکاح کیا اور اب وہ ایک بیٹے کی ماں ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

ایمن سلیم نہ صرف شوبز بلکہ ایک منفرد عالمی ریکارڈ کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے پاس ”گنیز ورلڈ ریکارڈ“ بھی موجود ہے، جو انہوں نے 18 دیگر لڑکیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی اسمارٹ کار میں فٹ ہو کر بنایا تھا۔ حال ہی میں فریحہ الطاف کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایمن نے اس ریکارڈ کے پیچھے کی دلچسپ کہانی سنائی۔

ایمن سلیم نے بتایا کہ ان کے والد، سابق قومی کرکٹر سلیم یوسف، نے انہیں 18 سال کی عمر سے پہلے ہی دو سیٹوں والی مرسڈیز کنورٹیبل گاڑی تحفے میں دی تھی، تاہم گاڑی چلانے کی اجازت 18 سال کے بعد دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے گوگل پر گنیز ورلڈ ریکارڈ دیکھا تو آسٹریلیا کی ٹیم یہی ریکارڈ بنا چکی تھی، جس کے بعد انہوں نے بھی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایمن کے مطابق انہوں نے اپنے اسکول “کے جی ایس” کی دوستوں کو جمع کیا اور سب نے مل کر اس ریکارڈ کو توڑنے کی تیاری کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس دوران سابق کرکٹر وسیم اکرم سمیت کئی معروف شخصیات نے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ ایمن نے ہنستے ہوئے یہ بھی بتایا کہ گاڑی میں فٹ ہونے کے لیے تمام لڑکیوں نے باقاعدہ ڈائٹنگ کی تھی تاکہ ریکارڈ بنایا جا سکے۔

تاہم ان کا یہ اندازِ گفتگو سوشل میڈیا صارفین کو کچھ خاص پسند نہیں آیا۔ انٹرویو کے کلپس وائرل ہوتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین نے ان پر تنقید شروع کر دی۔ کئی افراد نے انہیں “آؤٹ آف ٹچ” قرار دیا جبکہ بعض نے ان کی گفتگو کو غیر سنجیدہ اور بناوٹی کہا۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا مشہور شخصیات کی پرتعیش زندگی اور اندازِ گفتگو عوام کے لیے متاثرکن ہوتا ہے یا پھر یہی چیز تنقید کی وجہ بن جاتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US