"میری والدہ نے ہم پانچ بہن بھائیوں کی اکیلے پرورش کی۔ انہوں نے ہماری تعلیم جاری رکھنے کے لیے اپنے زیورات تک فروخت کیے۔ اسی وقت ہمیں احساس ہوگیا تھا کہ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون سا پیشہ اختیار کروں گی، لیکن یہ ضرور معلوم تھا کہ مجھے کام کرنا ہے۔"
پاکستانی اداکارہ، ماڈل اور ڈیجیٹل کریئیٹر صرحا اصغر نے اپنی مالی مشکلات اور خودمختار ہونے کی جدوجہد کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ندا یاسر کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے لیے کام کرنا محض کیریئر کا انتخاب نہیں بلکہ زندگی کی ایک اہم ضرورت رہا ہے۔
صرحا کے مطابق ان کی والدہ نے پانچ بچوں کی پرورش اکیلے کی اور محدود وسائل کے باوجود ان کی تعلیم جاری رکھی۔ گھر کے حالات نے انہیں بہت کم عمری میں یہ سمجھا دیا تھا کہ مستقبل میں انہیں خود اپنے اخراجات سنبھالنے کے قابل بننا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں اپنے مستقبل کے پیشے کا واضح اندازہ نہیں تھا۔ ان کی بہن نے انہیں صحافت اختیار کرنے کا مشورہ دیا، تاہم حالات انہیں اداکاری کی دنیا میں لے آئے۔ صرحا کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں مستقل مزاجی اور وقت کی پابندی کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے۔
اداکارہ نے اپنی موجودہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اور ان کے شوہر دونوں محنت کرتے ہیں تاکہ اپنے طرزِ زندگی، گھر کے اخراجات، بلوں اور دیگر ضروریات کو پورا کرسکیں۔ ان کے مطابق تین بچوں کے بعد دونوں کے لیے کام کرنا مزید اہم ہوگیا ہے۔
صرحا نے بچوں کے مالی مستقبل کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ بات شیئر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا بیٹا کسی ویڈیو یا ریل میں ان کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کے عوض رقم ملتی ہے تو وہ وہ پیسے اس کے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھتی ہیں، کیونکہ مستقبل میں اسے بھی اپنی محنت سے کمانا سیکھنا ہوگا۔
صرحا اصغر کے مطابق محنت اور مالی خودمختاری صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ضرورت ہے۔