صلہ یاسر بلوچ کو عوامی رویے پر شکوہ کرنا مہنگا پڑ گیا

image

معروف میزبان ندا یاسر اور اداکار و ہدایت کار یاسر نواز کی بیٹی صلہ یاسر بلوچ کی جانب سے عوامی رویے پر شکوہ کرنا انہیں مہنگا پڑ گیا سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیان پر تنقید کے تیر برسا دیے۔

ندا یاسر اور یاسر نواز کا شمار شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب کیریئر بنایا۔ اب ان کے بچے بھی بڑے ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی بیٹی صلہ یاسر بلوچ نے حال ہی میں اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی متحرک نظر آتی ہیں۔

حال ہی میں صلہ نے انسٹاگرام پر اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک ناخوشگوار تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے لیے باہر گئی تھیں، تاہم وہاں موجود متعدد افراد نے ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی ویڈیوز بنانا شروع کردیں، جس پر انہیں شدید ناگواری ہوئی۔

صلہ کے مطابق لوگوں نے ان کی والدہ ندا یاسر کو بھی ان کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ پبلک فگرز ضرور ہیں، لیکن اس کے باوجود کسی کی ویڈیو بنانے سے پہلے اس کی رضامندی کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

تاہم صلہ کا یہی بیان سوشل میڈیا پر بحث کی وجہ بن گیا۔ متعدد صارفین نے ان کے خاندان کو "پبلک فگرز" کہنے پر طنز کیا جبکہ کچھ لوگوں نے انہیں یاد دلایا کہ ان کے خاندان کی شہرت میں اسی عوام کا اہم کردار ہے۔

کچھ صارفین نے ندا یاسر کو بھی اس معاملے میں گھسیٹ لیا اور ان کے ماضی کے ٹی وی مواد اور انداز کا حوالہ دیتے ہوئے صلہ کے شکوے پر تنقید کی۔ یوں بغیر اجازت ویڈیو بنائے جانے پر صلہ یاسر بلوچ کا اعتراض ایک الگ ہی تنازع میں بدل گیا اور اب سوشل میڈیا پر پرائیویسی، رضامندی اور مشہور شخصیات کے ساتھ عوام کے رویے پر بحث جاری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US