آخر ہر بار سوال عورت کے لباس، وقت اور گھر سے باہر نکلنے پر ہی کیوں اٹھایا جاتا ہے؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ مرد جنسی تشدد کرتے کیوں ہیں؟
پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اور بچوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے معاشرے کے ایک حساس رویے پر سوال کھڑا کردیا۔
اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں متاثرہ فرد کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے مجرم کے عمل پر توجہ دینے کی بات کی گئی۔ پوسٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جنسی تشدد کا نشانہ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ بچے، جانور اور یہاں تک کہ مُردے بھی بنتے ہیں اس کے باوجود بحث اکثر خواتین کے لباس، باہر نکلنے کے وقت اور ان کی نقل و حرکت کے گرد گھومنے لگتی ہے۔
عائشہ عمر کی شیئر کردہ پوسٹ نے اسی سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے ایک اہم سوال سامنے رکھا آخر متاثرہ خاتون سے وضاحت مانگنے کے بجائے جنسی تشدد کرنے والے شخص کے رویے پر سوال کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟
اداکارہ کی یہ انسٹا اسٹوری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنسی تشدد کے متعدد واقعات خبروں میں زیرِ بحث ہیں۔