شدید گرمی کا وار، کراچی میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے خطرات بڑھ گئے۔
کراچی میں درجہ حرارت اور نمی میں اضافے نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ حبس کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دوپہر کے اوقات میں سڑکیں، بازار اور دیگر عوامی مقامات معمول کے مقابلے میں زیادہ سنسان دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال میں معمولی لاپرواہی بھی صحت کے سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے تو دماغ، دل اور گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے، اسی لیے احتیاط کو معمول بنانا ضروری ہے۔
جناح اسپتال کے ایمرجنسی شعبے سے وابستہ ڈاکٹر عرفان صدیقی کے مطابق شہریوں کو صبح کے آخری حصے سے لے کر شام تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور آنکھوں کو تیز دھوپ سے بچانے کے لیے چشمے کا استعمال کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ صرف پیاس محسوس ہونے پر پانی پینا کافی نہیں بلکہ گرمی کے دنوں میں وقفے وقفے سے پانی، جوس، لسی یا دیگر مشروبات کا استعمال ضروری ہے۔ پسینے کے ذریعے خارج ہونے والے نمکیات کی کمی پوری کرنے کے لیے او آر ایس یا لیموں، نمک اور چینی سے تیار کردہ گھریلو مشروب بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین غذائیت کا بھی مشورہ ہے کہ موسم کی شدت کے دوران بھاری، چکنی اور مصالحے دار غذاؤں کے بجائے ہلکی خوراک کو ترجیح دی جائے۔ دہی، کھیرا، تربوز اور خربوزہ جیسے پانی سے بھرپور پھل اور غذائیں جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
شہر میں بڑھتی گرمی کے پیش نظر ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی سے بچاؤ کے لیے لباس کا انتخاب بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہلکے رنگوں کے سوتی اور کشادہ کپڑے جسم سے حرارت کے اخراج میں مدد دیتے ہیں، جبکہ تنگ اور مصنوعی کپڑے گرمی کے اثرات کو بڑھا سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ چکر آنا، شدید سر درد، متلی، جلد کا غیر معمولی گرم اور خشک ہو جانا، ذہنی الجھن یا بے ہوشی جیسی علامات ہیٹ اسٹروک کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرہ شخص کو فوراً ٹھنڈی جگہ منتقل کرنا چاہیے، اس کے کپڑے ڈھیلے کرنے چاہئیں اور جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کے ساتھ فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور وہ افراد جو پہلے سے کسی دائمی بیماری کا شکار ہیں، گرمی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان طبقات کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ موسم میں بروقت بچاؤ ہی سب سے مؤثر حفاظتی تدبیر ثابت ہوسکتا ہے۔