ایران معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات، خفیہ رپورٹ میں تحفظات کا انکشاف

image

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر اختلافات سامنے آگئے ہیں، جہاں متعدد اعلیٰ حکام نے معاہدے کی شرائط اور ایران کے ممکنہ مؤقف پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو ایران سے متعلق ایک خفیہ رپورٹ پیش کی، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ تہران حتمی معاہدے کے تحت مطلوبہ جوہری رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ رپورٹ میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف جان ریٹکلف ہی نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی مشاورتی ٹیم کے دیگر اہم ارکان نے بھی مفاہمتی یادداشت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان میں وزیر خارجہ اور وزیر جنگ بھی شامل تھے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر معاہدے کے حامی قرار دیے گئے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے اعلان سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے درمیان کئی اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں مختلف امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس اور انٹیلی جنس معلومات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان معلومات سے یہ تاثر ملا کہ ایران کی جانب سے ثالثوں کو دیے گئے پیغامات اور امریکی حکام سے ہونے والی بات چیت میں نمایاں فرق موجود تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ تمام مشاورت اور اختلافی آراء کے باوجود حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر حکومتی پالیسی تشکیل دی جاتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US