’لیکن کسی بھی دوسری ملکہ کی رہائش ویسی شاندار نہیں تھی جیسی ’خاص محل‘ کی تھی، جہاں ممتازمحل شاہ جہاں کے ساتھ رہتی تھیں۔ خالص سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین اس محل میں گلاب کے پانی کے فوارے موجود تھے۔‘

17 جون سنہ1631 کو دکن میں مغلوں کے صدر مقام برہان پور کی جُھلساتی گرمی میں پانچویں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی محبوب ملکہ، ممتاز محل، 14ویں مرتبہ زچگی کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔
اس شاہی جوڑے کی 19 سالہ رفاقت میں تب تک 13 بچے جنم لے چکے تھے، جن میں سے سات کی بچپن ہی میں وفات ہو گئی تھی۔ بچ جانے والے چھ بچوں میں سب سے بڑی جہاں آرا، جن کی عمر اُس وقت 17 برس تھی، زچگی کے مرحلے میں اپنی والدہ کے پاس موجود تھیں۔
شاہی طبیب اور زچگی میں معاونت کرنے والے بھی وہاں موجود تھے۔ 17 سالہ جہاں آرا اس سے پہلے بھی اپنی والدہ کی کئی ولادتوں میں اُن کی مدد کر چکی تھیں۔
مگر اس بار، یعنی 14ویں بچے کی آمد کے موقع پر کچھ گڑبڑ تھی۔
سُپریا گاندھی اپنی کتاب ’دی ایمپررہُونیورواز: داراشکوہ اِن مغل انڈیا‘ میں لکھتی ہیں کہ قدیم یونانی طبیب جالینوس کے نظریات سے متاثر مغل طبیب انسانی جسم کو چار اخلاط یا عناصر کا مجموعہ سمجھتے تھے اور اُن کے نزدیک صحت کا دارومدار ان عناصر کے باہمی توازن پر تھا لیکن ممتاز محل کے جسم میں یہ توازن تیزی سے بگڑ رہا تھا۔
30 گھنٹے طویل زچگی کے بعد ممتاز محل نے ایک بچی کو جنم دیا لیکن اُس کے بعد شدید خون بہنے لگا اور اُن کی حالت تیزی سے خراب ہوتی گئی۔
غالباً وہ اس عارضے میں مبتلا ہوئیں جسے جدید طب میں زچگی کے بعد خون کا شدید بہنایا یعنی ’پوسٹ پارٹم ہیمریج‘ کہا جاتا ہے۔
تکلیف کا شکار ممتاز محل نے جہاں آرا سے کہا کہ وہ اپنے والد یعنی شاہ جہاں کو بلائیں۔
غم سے نڈھال بادشاہ فوراً آئے اور ممتاز محل کے سرہانے بیٹھ گئے۔ اُن کے دوسرے بچوں کو اُن کے پاس پہنچنے کا وقت نہ مل سکا، لیکن ممتاز محل نے بادشاہ سے کہا کہ وہ اپنے بچوں اور اپنی والدہ کو اُن کی نگرانی میں سونپتی ہیں۔ پھر ممتاز محل 38 برس کی عمر میں اس پیچیدگی کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
شاہ جہاں اور ممتاز محل کی شادی سنہ 1612 میں ہوئی تھی۔ تب شاہ جہان شہزادہ خرم تھے اور ممتاز محل ’ارجمند بانو بیگم۔‘محبت سے بھرپور زندگی
شاہ جہاں اور ممتاز محل کی شادی سنہ 1612 میں ہوئی تھی۔ تب شاہ جہان شہزادہ خرم تھے اور ممتاز محل ’ارجمند بانو بیگم‘۔
شادی کے کچھ ہی عرصے بعد شہزادہ خرم نے ارجمند بانو بیگم کو ’ممتاز محل‘ کا خطاب دیا، جس کے معنی ہیں ’محل کی منتخب ترین خاتون۔‘
مؤرخین کے مطابق ممتاز محل اور شاہ جہاں کی ازدواجی زندگی محبت اور باہمی وابستگی سے بھرپور تھی۔
سنہ 1628میں تخت نشین ہونے کے بعد، شاہ جہاں نے ممتاز محل کو ’پادشاہ بیگم‘، ’ملکہ جہاں‘، ’ملکہ زمانی‘ اور ’ملکہ ہندوستان‘ کے خطابات عطا کیے اور آسائشیں فراہم کیں۔
ایلیسن بینکس فنڈلی کی کتاب ’نورجہاں: ایمپریس آف مغل انڈیا‘ سے علم ہوتا ہے کہ شاہ جہان نے دو شادیاں اور کی تھیں۔ ایک ارجمند بانو سے پہلے اور ایک بعد میں۔ درباری مؤرخین کے مطابق دیگر دو شادیوں کا مقصد سیاسی اتحاد تھے اور ان شادیوں سے ایک، ایک بچہ بھی تھا۔
’لیکن کسی بھی دوسری ملکہ کی رہائش ویسی شاندار نہیں تھی جیسی ’خاص محل‘ کی تھی، جہاں ممتازمحل شاہ جہاں کے ساتھ رہتی تھیں۔ خالص سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین اس محل میں گلاب کے پانی کے فوارے موجود تھے۔‘
’مغل شہنشاہ کی ہر بیوی کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا، سب سے بڑی رقم دس لاکھ روپے سالانہ تھی جو شاہ جہاں نے ممتاز محل کو عطا کی۔ اس کے علاوہ انھیں کئی نہایت منافع بخش زمینیں اور جائیدادیں بھی دی گئیں۔‘
ریاستی اور نجی دونوں معاملات میں ممتاز محل شاہ جہاں کی قریبی رازدان اور قابلِ اعتماد مشیر تھیں۔
والدیمرہینسن اپنی کتاب ’دی پیکاک تھرون‘ میں لکھتے ہیں کہ اپنی پھوپھی اور پیشرو نور جہاں کی طرح، ممتاز محل بھی نجی دربار اور عام دربار میں شہنشاہ کے ساتھ ہوتیں۔
’وہ ایک پردے کے پیچھے ہوتیں، اگر کسی بات سے اختلاف ہوتا تو نظر سے اوجھل رہتے ہوئے اپنا ہاتھ بادشاہ کی پیٹھ پر رکھ دیتیں۔ اُن کی سفارش پر وہ دشمنوں کو معاف کر دیتے یا سزائے موت کو نرم کر دیتے تھے۔‘
مؤرخین کے مطابق شاہ جہاں نے انھیں شاہی مہرعطا کر رکھی تھی، جو شاہی احکامات کی توثیق کے لیے استعمال ہوتی تھی اور اُن کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔
ممتاز محل کو سیاسی اقتدار کی خواہش تو نہیں تھی لیکن وہ اپنے غیر معمولی اثر کو اکثر غریبوں اور ناداروں کی مدد کے لیے استعمال کرتی تھیں۔
مؤرخ سُپریا گاندھی کے مطابق آج تک ایک حکم نامہ (فرمان) موجود ہے جس پر ممتاز محل کی مہر ثبت ہے۔ اس میں وہ ارندول (خاندیش کے ایک مراٹھی بولنے والے ضلع) کے حکام سے مخاطب ہیں۔
’وہ نئے دیش مکھ (سردار) کانو جی کی توثیق کرتی ہیں اور انھیں ہدایت دیتی ہیں کہ رعایا کی فلاح و بہبود کا خیال رکھیں تاکہ وہ بادشاہ کے شکر گزار رہیں۔ یہ حکم نامہ غالباً ان بے شمار سرکاری احکامات میں سے ایک تھا جو ملکہ جاری کرتی تھیں۔ ان کی معتمد معاون ستی النسا اُن کی مہر بردار مقرر ہوئیں۔‘
’ستی النسا ان خواتین کی درخواستوں میں سے مستحق کو منتخب کرتیں اور ممتاز محل انھیں بادشاہ کی توجہ میں لاتی تھیں۔ ملکہ سزائے موت کے مقدمات میں بھی سفارش کرتیں اور اکثر شاہ جہاں سے معافی دلواتی تھیں۔‘
شاہی مؤرخین نے اُن کی قربت اور باہمی تعلق کو اس قدر غیر معمولی سمجھا کہ انھوں نے شاہی جوڑوں کے بارے میں عام طور پر اختیار کی جانے والی احتیاط سے ہٹ کر، دونوں کے درمیان موجود گہرے جذباتی اور ازدواجی تعلق کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔
ممتاز محل شاہ جہاں کے ابتدائی فوجی معرکوں اور بعد ازاں اپنے والد جہانگیر کے خلاف اُن کی بغاوت کے دوران میں بھی ان کے ساتھ رہیں۔
بُرہان پور میں بھی ملکہ کا شاندار اور آراستہ خیمہ اس مقام سے زیادہ دور نصب نہیں تھا جہاں بادشاہ ایک بغاوت کچلنے کے لیے موجود تھے۔
ممتازمحل کو سیاسی اقتدار کی خواہش تو نہیں تھی لیکن وہ اپنے غیر معمولی اثر کو اکثر غریبوں اور ناداروں کی مددکے لیے استعمال کرتی تھیں موت کا صدمہ
ممتاز محل کی 14ویں زچگی سے پیدا ہونے والی نومولود بچی زندہ رہی، جس کا نام گوہر آرا رکھا گیا، جس کا مطلب ہے ’زیورات سے آراستہ‘۔
شاہ جہاں کے عہد کے اولین مؤرخین میں سے ایک، قزوینی نے ممتاز محل کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب اس نے اِن بچوں سے دنیا کو چاند کی مانند آراستہ کر دیا، تو چودھویں (بچے) کے بعد وہ پژمردہ ہو گئی۔ جب اس نے آخری تنہا موتی کو جنم دیا، تو اس نے اپنے جسم کو صدف کی طرح خالی کر دیا۔‘
شاہ جہاں کے مورخین نے زیادہ تر بادشاہ کے غم کو بیان کیا حالانکہ اُن کے بچوں پر بھی یقیناً گہرا صدمہ گزرا ہو گا۔
شاہ جہاں کے درباری مؤرخ عبدالحمید لاہوری نے ’پادشاہ نامہ‘ میں لکھا کہ ’آہوں کی گرمی اور آنسوؤں کی نمی سے سورج صفت بادشاہ کے دل کا آئینہ، جس نے کبھی تاریکی کا چہرہ نہ دیکھا تھا، زنگ آلود اور مکدر ہو گیا۔‘
بادشاہ نے سفید لباس پہن لیا۔ تمام شہزادے، درباری اور خادم بھی سوگ کے لباس میں ملبوس رہے۔
ایک ہفتے تک شاہ جہاں جھروکے میں ظاہر نہ ہوئے اور نہ ہی امورِ سلطنت انجام دیے۔ بیوی کی وفات سے پہلے ان کے بالوں میں بمشکل بیس سفید بال تھے لیکن جلد ہی ان کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ ایک مدت تک وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکے۔
16 سالہ دارا شکوہ نے اپنی والدہ ممتاز محل کو زین آباد کے باغات میں، دریائے تاپتی کے کنارے دفن ہوتے دیکھا۔ شاہ جہاں ہر جمعہ اس قبر کی زیارت کرتے تھے اور غالباً دارا شکوہ اور اُن کے کچھ بھائی بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔
شاعر کلیم نے بادشاہ کے غم کو یوں بیان کیا ’جوں ہی اُن کا سایہ اُس قبر پر پڑتا، اُن کے رونے کی نمی کفن تک پہنچ جاتی۔‘
لیکن مؤرخ سُپریا گاندھی کے مطابق شاہ جہاں کا ارادہ ہرگز یہ نہ تھا کہ برہان پور ممتاز محل کی آخری آرام گاہ بنے۔ اُن کی نظر آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے ایک دلکش مقام پر تھی۔
’یہ زمین راجا جے سنگھ سے شاہ جہاں نے شاہی اختیار استعمال کرتے ہوئے لے لی تھی اور بدلے میں شاہی املاک سے چار عالی شان مکانات عطا کیے۔
دسمبر 1631 میں ممتاز محل کی میت کو قبر سے نکالا گیا اور بیٹے شجاع اُن کے تابوت کے ساتھ آگرہ روانہ ہوئے۔ ستی النسا بھی اُن کے ساتھ تھیں۔
سُپریا گاندھی لکھتی ہیں کہ راستے میں جلوس نے لوگوں میں سکے تقسیم کیے اور کھانا بانٹا۔ آگرہ پہنچنے کے بعد قبر پر ایک چھوٹا گنبد تعمیر کیا گیا تاکہ اجنبی نگاہوں سے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔
غمزدہ شاہ جہاں، جنھیں نوجوانی ہی سے فنِ تعمیر میں دلچسپی تھی، اب ایک عظیم مقبرہ تعمیر کرنے کے منصوبے میں مشغول ہو گئے۔
فرانسیسی جواہرات کے تاجر ژاں بپٹسٹ تاویرنیے کے سفرنامے کے مطابق اس منصوبے میں 20,000 سے زیادہ مزدور اور 1,000 ہاتھی شامل تھے۔
تاج محل پر کام 22 سال تک جاری رہا اور اُس کی لاگت پچاس لاکھ روپے تک جا پہنچی جس سے مغلیہ خزانے کو شدید نقصان پہنچا۔
ایوا فرنانڈیز ڈیل کامپو نے لکھا کہ جزوی طور پر شاہ جہاں تاج محل میں اس قدر منہمک تھے کہ سلطنت کے دیگر معاملات نظرانداز ہونے لگے۔
سنہ 1658 میں اورنگزیب نے اپنے والد (شاہ جہاں) سے اقتدار چھین لیا اور اپنے ہی تین بھائیوں کو قتل کر دیا۔ شاہ جہاں کو آگرہ قلعہ میں قید کر دیا گیا جہاں وہ 1666 میں اپنی وفات تک قید رہے۔
بادشاہ نے سفید لباس پہن لیا۔ تمام شہزادے، درباری اور خادم بھی سوگ کے لباس میں ملبوس رہے۔سیاہ تاج محل: شاید نہیں!
کہا جاتا ہے کہ شاہ جہاں نے اپنے لیے ایک ایسا مقبرہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا تھا جو اُن کے سوگ کی عکاسی کرتے ہوئے سیاہ پتھر کا ہوتا اور دریا کے پل کے ذریعے تاج محل سے منسلک کیا جاتا۔
اس خیال کا پہلا ذکر فرانسیسی سیاح ژاں بپٹسٹ تاویرنیے نے سنہ 1665 میں اپنی تحریروں میں کیا، جن میں کہا گیا کہ شاہ جہاں نے اپنا مقبرہ شروع کیا تھا مگر ان کے بیٹے اورنگزیب کے ہاتھوں معزول ہونے کے باعث وہ مکمل نہ ہو سکا تاہم جدید ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور مؤرخین کی بڑی تعداد اسے ایک افسانہ سمجھتی ہے۔
تاج محل میں شاہ جہاں کی قبر ممتاز محل کی قبر کی طرح عین مرکز میں نہیں بلکہ اس کے پہلو میں واقع ہے۔
اس غیر متناسب ترتیب سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاید شاہ جہاں کا مقبرہ کسی اور جگہ تعمیر ہونا تھا۔ تاہم تاج محل صرف ممتاز محل کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ شاہ جہاں کو بعد از وفات ان کے ساتھ دفن کیا گیا، اسی لیے ان کی قبر مرکز سے ہٹ کر ہے۔
آرناتھ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’تاج محل 1648 میں مکمل ہو چکا تھا جبکہ اگر کوئی دوسرا منصوبہ ہوتا تو اس کے ٹھوس آثار ہوتے اور معاصر فارسی مؤرخین اس کا ضرور ذکر کرتے مگر وہ خاموش ہیں۔‘
گویا تاج محل محبت کا لازوال استعارہ تو رہتا ہی، مگر خواتین کی زندگی کی علامت بھی بن جاتا۔تاج محل اور زچگی
’مدراس کوریئر‘ کے مطابق تاج محل کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اسے ماں کی صحت کی اہمیت کی یاد دہانی ہونا چاہیے۔
’ممتاز محل شاہ جہاں کو اپنی تمام بیویوں میں سب سے زیادہ عزیز تھیں۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ تھا کہ انھوں نے شاہ جہاں کے لیے 14 بار حمل برداشت کیے۔ ممتاز محل اپنی شادی کے تقریباً ہر سال حاملہ رہیں۔ چودہ بار حمل میں سے صرف سات بچے (تین بیٹیاں اور چار بیٹے) زندہ رہ سکے اور 14ویں بچے کی پیدائش ہی ممتاز محل کی موت کا سبب بنی۔‘
’ممتاز محل ایسی بیماریوں کے باعث وفات پا گئیں جو زچگی سے متعلق تھیں۔‘
اننت کمار اپنے مضمون ’مانومنٹ آف لوو اورسمبل آف میٹرنل ڈیتھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ممتاز محل کے مسلسل اور کثرتِ حمل نے اُن کی صحت کو شدید نقصان پہنچایا اور بالآخر اسی بار بار کے حمل کے نتیجے میں انھیں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
’دوسری جانب 17ویں صدی کی سویڈن میں، ملکہ اولریکا ایلینورا نے زچگی میں ہونے والی اموات کے مسئلے کا مختلف انداز میں جواب دیا۔ انھوں نے دایہ گیری کی پہلی درسگاہ قائم کی اور یہ پالیسی متعارف کروائی کہ ہر گاؤں سے ایک یا دو خواتین کو دایہ گیری کی تربیت دی جائے۔‘
’سویڈن میں کمیونٹی دایہ گیری کی اسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں 1900 تک وہاں شرحِ امواتِ زچہ، یعنی ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر زچگی سے متعلق اموات کی تعداد، کم ہو کر 230 رہ گئی حالانکہ اس وقت معمول کی جراحی ولادت، خون کی منتقلی اور اینٹی بایوٹکس ابھی عام نہیں ہوئی تھیں۔‘
شہنشاہ شاہ جہاںسترہویں صدی کی مغل سلطنت میں زچگی کے بعد شدید خون بہنےکے واقعات کی کوئی درست شماریاتی شرح دستیاب نہیں تاہم طبی مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ اس دور میں زچگی کے دوران یا بعد از زچگی خواتین کی اموات کی شرح غیر معمولی طور پر بلند تھی اور شدید خون بہنا اس کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتا تھا۔
مغل دور میں طب اور جراحت خاصی ترقی یافتہ تھی اور یورپی سیاح اور مؤرخ بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔
’مدراس کوریئر‘ کے مطابق اگرچہ ہندوستان کی سب سے مشہور یادگار ممتاز محل سے شاہ جہاں کی محبت کی گواہی کے طور پر تعمیر کی گئی لیکن اس سے بھی بڑی میراث زچگی کی بہتر دیکھ بھال کے فروغ کی صورت میں ہو سکتی تھی۔‘
چند مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر تاج محل پر صرف ہونے والی بے پناہ دولت کا کچھ حصہ بھی زچہ و بچہ کی نگہداشت کے لیے ایک شفا خانے کے قیام پر صرف کیا جاتا تو وہ صرف محبت کی علامت ہی نہ بنتا بلکہ محبت نبھانے والی بے شمار عام ممتاز محلوں کی زندگی بھی بچاتا، جو صدیوں سے زچگی سے جڑے عوارض کے باعث جوان عمری میں موت کا شکار ہوتی رہی تھیں۔
گویا تاج محل محبت کا لازوال استعارہ تو رہتا ہی مگر خواتین کی زندگی کی علامت بھی بن جاتا۔