مفاہمتی یادداشت: کیا ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے؟

ابتدا سے ہی تہران کا بنیادی مقصد روایتی فوجی معنوں میں امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینا نہیں تھا۔ اُس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس تنازع سے اِس حال میں ابھرے کہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران قائم رہے بلکہ اُس کی قیادت اقتدار میں رہے اور اُس کی مذاکراتی پوزیشن مکمل طور پر کمزور نہ ہو۔ اور اس مفاہمتی یادداشت سے ایران کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اُس نے اپنے یہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
ایران
Getty Images

امریکہ اور ایران کے بیچ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ہی ممالک فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ 100 دن سے زیادہ جاری رہنے والے تنازع کے بعد اس نوعیت کے دعوے اِس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں فریقوں کو اس تنازع سے نکلنے کی کتنی ضرورت تھی۔.

مفاہمتی یادداشت نے اگرچہ لڑائی تو روک دی ہے لیکن یہ مشکل ترین مذاکرات کا نقطہ آغاز بھی، ایسے مذاکرات جو پہلے مرحلے پر ہی کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔

دونوں فریق اس مفاہمتی ڈیل کو اپنی اپنی عوام کے سامنے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن جیسا کہ ہمارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اپنے عوام کو مکمل طور قائل نہیں کر سکا اور دونوں جانب کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے مخالف حکومت کو بہت زیادہ رعایتیں دی ہیں۔

ایران کے لیے امریکہ کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم چیز بھی فراہم کرتا ہے: یعنی اب تہران کے پاس یہ دعویٰ کرنے کا موقع ہے کہ نہ صرف اُس نے اس جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے، بلکہ وہ پہلے سے سے زیادہ طاقتور ہو کر اس تنازع سے نکلا ہے۔

ابتدا سے ہی تہران کا بنیادی مقصد روایتی فوجی معنوں میں امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینا نہیں تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس تنازع سے اِس حال میں ابھرے کہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران قائم رہے بلکہ اُس کی قیادت اقتدار میں رہے اور اُس کی مذاکراتی پوزیشن مکمل طور پر کمزور نہ ہو۔

اس مفاہمتی یادداشت سے ایران کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اُس نے اپنے یہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

اس مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں ایران پر عائد ہونے والی ذمہ داریاں اگرچہ اہم ہیں لیکن نسبتاً محدود ہیں۔ تہران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ تجارتی گزرگاہ بنانے میں مدد دینے کی یقین دہانی کروائی ہے، اور یہ بات جنگ سے پہلے کی صورتحال سے مختلف نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے ایک بار پھر یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور اس نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم اور افزودگی پروگرام کے مستقبل سے متعلق مذاکرات میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ یاد رہے کہ جنگ کے آغاز سے قبل بھی ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

ایران
Getty Images

دوسری جانب معاہدے کے تحت امریکہ پر عائد ذمہ داریاں کہیں وسیع دکھائی دیتی ہیں۔

معاہدے کے مطابق، امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کرے گا (یہ خاتمہ کل رات کر دیا گیا ہے)، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں چھوٹ دے گا، تہران کو اس کے منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی فراہم کرے گا اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو اور معاشی ترقی کے منصوبے پر کام کرے گا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ایران میں حکومت کے ناقدین اس مفاہمتی یادداشت کا متن سامنے آنے کے بعد سے کافی حد تک خاموش ہیں۔ یہ معاہدہ ایرانی قیادت کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیتا ہے، وہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا گیا ہے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو رہی ہے، پابندیوں میں نرمی زیر غور ہے اور معاہدے میں تعمیر نو کی فنڈنگ کا واضح ذکر موجود ہے۔

لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار رہنے کا امکان نہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا اس مفاہمتی یادداشت پر ابتدائی ردعمل کافی محتاط دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے معاہدے کی اجازت تو دی ہے لیکن ساتھ ہی ایران کی سیاسی قیادت پر یہ بھی واضح کر دیا کہ اسے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی ذمہ داری پر قبول کیا گیا ہے۔

تاہم یاد رکھیں کہ اس مفاہمتی یادداشت میں سب سے مشکل معاملات حل نہیں ہوئے ہیں بلکہ انھیں مؤخر کر دیا گیا ہے۔

اب ایران کے افزودہ یورینیم کا مستقبل، اس کی یورینیم افزودگی کی صنعت کا حجم اور تباہ شدہ جوہری تنصیبات کی بحالی جیسے معاملات پر اب شدید دباؤ میں مذاکرات ہوں گے۔ یہ تہران کی قیادت کے لیے ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔

ایران کا سرکاری میڈیا، پاسدارانِ انقلاب، پارلیمان اور سخت گیر شخصیات کئی ہفتوں سے اپنے حامیوں کو یہ کہتی آ رہی ہیں کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست دے دی ہے۔ چنانچہ عوام کی توقعات بہت بلند ہیں۔ افزودہ یورینیم یا جوہری ڈھانچے پر کسی بھی سمجھوتے کو ناقدین ایسے پیش کر سکتے ہیں جیسے ایرانی حکومت نے فتح کے بعد بھی دشمن کو رعایت دی ہو۔

لیکن کوئی سمجھوتہ نہ کرنا بھی اتنا ہی خطرناک ہو سکتا تھا۔

قالیباف
Getty Images

اگر تہران انتہائی افزودہ یورینیم یا اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ مذاکراتی عمل ناکام ہو سکتا ہے اور جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ اس سے واشنگٹن اور اسرائیل میں ان حلقوں کو تقویت ملے گی جو پہلے ہی یہ کہتے ہیں کہ ایران نے صرف وقت حاصل کرنے کے لیے معاہدے کا سہارا لیا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کو جارحانہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’میں کوئی سفارتکار نہیں، لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ امریکہ کو کیسے سمجھایا جاتا ہے۔‘

مجتبیٰ خامنہ ای کے ردعمل نے اس کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انھوں نے اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی اجازت تو دی لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس سے اتنی دوری بھی برقرار رکھی، بظاہر تاکہ اگر یہ عمل ناکام ہو جاتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری اُن پر نہ پڑے۔

مجتبی خامنہ ای کے بیان کے بعد ایران کے مذاکرات کاروں کے لیے کوئی بھی سمجھوتا کرنے کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ انھیں ایک طرف واشنگٹن کو مطمئن کرنا ہو گا اور دوسری طرف یہ تاثر بھی نہیں دینا کہ انھوں نے کوئی ایسی حد عبور نہیں کی، جس کی خود رہبرِ اعلیٰ تائید نہیں کر رہے۔

قالیباف کا مخاطب صرف واشنگٹن ہی نہیں بلکہ ایران کے اندرونی سامعین بھی ہیں۔ سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر کو اس معاہدے کو ایک ایسے سخت گیر حلقے کے سامنے قابلِ قبول بنانا ہے جو امریکہ کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کو گہری شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

حالیہ معاہدے کا 2015 کے جوہری معاہدے سے موازنہ ناگزیر ہے۔ واشنگٹن میں کچھ لوگ اسے 2015 کے جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن سے بھی بدتر قرار دے سکتے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ٹرمپ نے ایسا فریم ورک قبول کیا ہے جو ایران کو پابندیوں میں نرمی اور معاشی فوائد فراہم کرتا ہے جبکہ مشکل ترین جوہری معاملات کو مؤخر کرتا ہے۔

لیکن تہران میں خطرے کی نوعیت مختلف ہے۔ سخت گیر عناصر حکومت اور مذاکراتی ٹیم پر 2015 جیسی'غداری' دہرانے کا الزام لگا سکتے ہیں۔ اُس وقت کے صدر حسن روحانی پر ارکانِ پارلیمان، قدامت پسند میڈیا اور سیاسی مخالفین نے ایران کے جوہری پروگرام پر بہت زیادہ رعایتیں دینے کا الزام لگایا تھا۔

پزشکیان اور قالیباف کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ جنگ بندی کے فریم ورک کو ایک سیاسی کامیابی میں تبدیل کریں اس سے قبل کہ ناقدین کی جانب سے ردعمل شدت اختیار کر جائے۔

ایران وقت حاصل کرنے، فوری فوجی دباؤ میں کمی اور بڑے معاشی فوائد کے امکانات پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس نے واشنگٹن کا سب سے بڑا مطالبہ بھی نہیں مانا ہے: ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ۔

لیکن ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ مختصر مدت میں ابتدائی معاہدہ ایران کی پوزیشن کو مضبوط بناتا ہے کیونکہ حکومت برقرار ہے اور واشنگٹن نے نمایاں وعدے کیے ہیں۔ تہران کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اگلے 60 دن داخلی طور پر پیش کی گئی فتح کی تصویر اور جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے درکار سمجھوتوں کے درمیان فرق کو نمایاں کر سکتے ہیں۔

ایران جنگ کے پہلے مرحلے سے توقع سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلا ہے، لیکن اگلا چیلنج زیادہ مشکل ہو سکتا ہے: اپنے سیاسی حامیوں کو اس عمل کے ساتھ اس وقت تک جوڑے رکھنا جب تک حتمی معاہدہ نہ ہو جائے، اور یہ تاثر پیدا نہ ہونے دینا کہ سمجھوتہ دراصل رعایت یا شکست ہے۔

ٹرمپ کا ’بڑی کامیابی‘ کا دعویٰ، ناقدین کا بہت زیادہ رعایتیں دینے کا اعلان

ان کے مطابق یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے امریکہ کے اس جنگ کو شروع کرنے کے بنیادی مقصد کو مکمل کرتا ہے۔
Reuters
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے امریکہ کے اس جنگ کو شروع کرنے کے بنیادی مقصد کو مکمل کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو امریکہ کے لیے ایک ’بڑی کامیابی‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے امریکہ کے اس جنگ کو شروع کرنے کے بنیادی مقصد کو مکمل کرتا ہے۔

فوری طور پر آبنائے ہرمز کے کھلنے کی وجہ سے عالمی معیشت کی بحالی کی صورت میں انھیں ایک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

جب تنازع کے طول پکڑنے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد امریکہ میں ہونے والے سرویز میں سامنے آیا کہ امریکی عوام پٹرول کی قیمتوں میں تیزی اور جنگ کے ملک پر پڑنے والے اثرات سے تنگ آنے لگے ہیں۔

2024 میں ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کی ایک وجہ اس وقت امریکی عوام کا معاشی عدم اطمینان تھا۔ یہ تاثر کہ صدر کی جانب سے شروع کی گئی جنگ عام شہریوں کی معاشی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہے، ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ بنتا جا رہا تھا۔

اگرچہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں وہ خود امیدوار نہیں ہوں گے، یہ بے چینی ان کے ریپبلکن ساتھیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ ان میں سے کئی امیدواروں کو پہلے ہی ایسے ممکنہ ووٹرز کی بڑھتی ہوئی ناراضی کا سامنا ہے جنھیں خدشہ ہے کہ امریکہ ایک ایسے تنازع میں شامل ہو گیا ہے جو طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

اس پس منظر میں، یہ معاہدہ ٹرمپ کو سانس لینے کا موقع دیتا ہے اور ان کے سیاسی اتحادیوں کو امید ہے کہ وہ خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کر سکیں گے جس نے تنازع کو نسبتاً جلد ختم کیا۔

تاہم معاہدے کے ناقدین، جن میں ریپبلکن پارٹی کے کچھ اراکین بھی شامل ہیں، پہلے ہی ٹرمپ پر حد سے زیادہ رعایتیں دینے کا الزام لگا چکے ہیں۔

اس بحث کا مرکز وہ وعدہ ہے کہ ایران کو 300 ارب ڈالر کا تعمیر نو فنڈ دیا جائے گا۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ’امریکہ کی طرف سے ایران کو 300 ارب ڈالر کی کوئی ادائیگی نہیں ہو رہی۔ یہ فیک نیوز ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ کو صرف اور صرف کامیابی ملی ہے، تیل کی کم ہوتی قیمتیں اور فتح۔‘

اگرچہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ یہ 300 ارب ڈالر کی رقم امریکہ ادا نہیں کرے گا تاہم اس کے باوجود پارٹی کے اندر کچھ لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ٹیکساس سے منتخب سینیٹر ٹیڈ کروز کو عام طور پر ٹرمپ کا قابلِ اعتماد اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے امریکی جریدے ’دی ہِل‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تاریخ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایسے مذہبی انتہا پسندوں کو اربوں ڈالر دینا جو ہمیں مارنا چاہتے ہیں کوئی اچھا خیال نہیں۔‘

’میرے خیال میں صدر کو بہت خراب مشورے دیے جا رہے ہیں۔‘

قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے اسے زیادہ دو ٹوک انداز میں بیان کیا ہے۔

انھوں نے ایکس پر اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ ’یہ امریکہ کے لیے خاصی ذلت آمیز شکست ہے۔‘

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ ان کے بعض مقاصد اب ترجیح نہیں رہے ہیں اور معاہدے میں ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

مثال کے طور پر تنازع کے آغاز ہی میں ٹرمپ نے وعدہ کیا کیا تھا کہ امریکی فوج ’اُن کے میزائل تباہ کر دے گی اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دے گی۔‘

مارچ میں ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ ’ایرانی حکومت اپنی سرحدوں سے باہر افواج کو مسلح کرنے، فنڈ دینے اور اُن کی ہدایت دینے کا عمل جاری نہ رکھ سکے۔‘

لیکن معاہدے میں ایران کے علاقائی پراکسی گروپس کے ساتھ تعلقات کا کوئی حوالہ نہیں۔

اب بظاہر ٹرمپ انتظامیہ اپنے اس ہدف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ کو ’توقع‘ ہے کہ حزب اللہ اسرائیلیوں پر فائرنگ سے گریز کرے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی ’قدرے بے ترتیب‘ ہوتی ہے اور لڑائی کبھی بھی ’اچانک بھڑک اٹھنے‘ کی توقع کی جا سکتی ہے۔

یہی بات اس معاہدے کو اُن ریپبلکن اراکین میں غیر مقبول بنا سکتی ہے جو امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی سلامتی کے عزم کو امریکی سیاست کا ایک اٹل پہلو سمجھتے ہیں۔

تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟

گذشتہ روز وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ اب نافذ العمل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جس کے تحت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

وہ فرانس کے شہر ایویان لیباں میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

14 نکات پر مشتمل یہ معاہدہ، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے، کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے‘ اگرچہ امریکہ کے لیے اس میں حصہ ڈالنا ضروری نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو ’کارکردگی پر مبنی‘ قرار دیا، جس کے تحت ایران کو اسی صورت میں فائدہ ہو گا جب وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے گا۔

اگرچہ معاہدے کے متن میں کئی سوالات کے جواب موجود نہیں اور بہت سے اہم مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں لیکن اس کے اہم نکات کے بارے میں یہ معلومات دستیاب ہیں۔

نکتہ 1: ’تمام محاذوں پر‘ تنازعے کا خاتمہ

معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔

امریکی نقطہ نظر سے، ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب تہران بارہا کہتا رہا ہے کہ وہ توقع کرتا ہے کہ لبنان بھی اس جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل ہو گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا کوئی بھی تسلسل ’یادداشت کی خلاف ورزی‘ ہو گا اور ’ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’آج کے بعد‘ کوئی بھی فریق فوجی کارروائی شروع نہیں کرے گا یا ایک دوسرے کو دھمکی نہیں دے گا اور لبنان کی ’علاقائی سالمیت اور خودمختاری‘ کو یقینی بنایا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق حتمی معاہدہ اس تنازعے کے مستقل ’خاتمے‘ کا باعث بنے گا۔

یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اس نکتے پر کیسے ردِعمل ظاہر کرے گا۔

آبنائے ہرمز
Getty Images
جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا

نکتہ 2: ’اندرونی معاملات‘ کا احترام

دستاویز کے متن میں جسے امریکی حکام کے ساتھ ایک کال کے دوران صحافیوں کو لفظ بہ لفظ پڑھ کر سنایا گیا، کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

امکان ہے کہ ایرانی حکومت کے مخالف گروہ اس شق کو منفی انداز میں دیکھیں گے۔

اس سال کے آغاز میں ٹرمپ نے ایران کے مختلف شہروں میں پھیلنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین سے کہا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے۔‘

نکتہ 3: 60 دن کی قابلِ توسیع مدت

دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اب 60 دن کا یہ وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے بدھ کی رات فرانس میں پیلس آف ورسائی میں جی 7 اجلاس کے بعد ایک عشائیے کے دوران ایران سے متعلق اس دستاویز پر دستخط کیے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی دستخط کیے ہیں۔

اس سے قبل، ٹرمپ اور ایرانی حکام دونوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ایک باضابطہ دستخطی تقریب ہوگی۔ یہ واضح نہیں کہ آیا اب بھی یہ تقریب منعقد ہوگی یا نہیں۔

نکتہ 4: امریکہ ناکہ بندی ختم کرے گا

چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔

معاہدے اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ناکہ بندی مکمل طور پر 30 دن کے اندر ختم کر دی جائے گی۔

اس دوران، ایرانی بندرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کو اس تناسب کے مطابق رکھا جائے گا جس میں ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا۔

حتمی معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر، امریکہ نے ’ایران کے قریب‘ سے اپنی افواج ہٹانے کا عہد بھی کیا ہے۔

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوج اس حالت اور تعیناتی پر واپس آ جائے گی جہاں وہ 28 فروری کو کشیدگی شروع ہونے سے پہلے موجود تھی۔

نکتہ 5: آبنائے ہرمز

معاہدے کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، بغیر کسی فیس کے۔

جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے یہ امریکہ کا ایک اہم مقصد رہا کیونکہ اس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آمدورفت ’فوری طور پر‘ بحال ہونا شروع ہو جائے گی، جس میں تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اس سے قبل بریفنگ کے دوران حکام نے بار بار یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

دستاویز کے مطابق طویل مدت میں ایران عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ تشکیل دے گا۔

ایک اہلکار کے مطابق امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران اپنے حقوق کو ’سخت انداز میں‘ استعمال کرے گا لیکن خلیجی ممالک کبھی بھی ایسے مستقبل کو قبول نہیں کریں گے جس میں فیس یا ٹول کا نظام نافذ ہو۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس سال کے آغاز میں آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا ’99 فیصد‘ مقصد تھا۔
Getty Images
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس سال کے آغاز میں آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا '99 فیصد' مقصد تھا

نکتہ 6: ایران کی تعمیر نو کے لیے مالی وسائل

مفاہمتی یادداشت کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر (224 ارب پاؤنڈ) کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔

حتمی طریقۂ کار پر حتمی معاہدے کے 60 دن کے اندر اتفاق کیا جائے گا اور تمام لائسنس، رعایتیں اور اجازت نامے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ مالی طور پر اس میں شامل ہوگا۔

ایک اہلکار نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو ’ایک پائی بھی‘ ادا کرنے یا اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کا پابند نہیں۔

اہلکار نے کہا کہ اگر ایران ’مناسب رویہ اختیار کرے‘ تو متحدہ عرب امارات کے حکام امریکہ کی منظوری کے ساتھ ایران میں ایک بجلی گھر تعمیر کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ اور دیگر حکام نے امریکی عوام کو یہ واضح کرنے کے لیے خاصی کوشش کی ہے کہ امریکہ براہِ راست ایران کو ادائیگی نہیں کرے گا، جس کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سنہ 2015 کے ایران اور اوبامہ انتظامیہ کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔

تہران
Anadolu via Getty Images

نکتہ 7: پابندیوں کا خاتمہ

امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔

تاہم اس کے لیے وقت کا تعیّن واضح نہیں۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے شیڈول پر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اتفاق کیا جائے گا لیکن دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو ’فوری طور پر‘ حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایران ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ کی ایک مہم ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا رہا ہے۔

نکتہ 8: کوئی جوہری ہتھیار نہیں

ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔

اس مواد کو سنبھالنے کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کا طریقۂ کار بعد کے مذاکرات میں ’باہمی طور پر طے کیا جائے گا‘، تاہم کم از کم اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای سے) کی نگرانی میں اسی مقام پر ’کم افزودہ‘ کیا جائے گا۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے اسےامریکہ کے لیے ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس سال کے آغاز میں آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا ’99 فیصد‘ مقصد تھا۔

چونکہ امریکہ نے اس معاہدے کو کارکردگی سے مشروط قرار دیا ہے، اس لیے ساتویں نکتے میں بیان کردہ پابندیوں میں نرمی کا انحصار آٹھویں نکتے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد پر منحصر ہو گا۔

 تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا
Getty Images
ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا

نکات 9 اور 10: ’سٹیٹس کو‘

معاہدے کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔

عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔

اس دوران وہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ خدمات، جیسے بینکاری لین دین اور نقل و حمل، کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔

نکتہ 11: منجمد فنڈز

یہ نکتہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ رہا۔

ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک اور معاشی سہارا مل سکے۔

دستاویز کے گیارہویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ ’منجمد یا محدود فنڈز کو مکمل طور پر دستیاب بنانے‘ کا عہد کرتا ہے اور اس کے طریقۂ کار پر مذاکرات کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔

بدھ کے روز ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے بعد جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران کچھ اثاثے جاری کیے جائیں گے تاکہ جب ایران معاہدے کے پہلوؤں پر عمل کرے جیسے اپنے انتہائی افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کرنے کا آغاز کرے تو اسے انعام دیا جا سکے۔

نکات 12 تا 14: نگرانی اور حتمی مذاکرات

دستاویز کے آخری چند نکات میں اس حوالے سے تفصیل بیان کی گئی ہے کہ یہ معاہدہ عملی طور پر کیسے آگے بڑھے گا۔

ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور مستقبل کے معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک ’طریقۂ کار‘ قائم کریں گے تاہم عملی طور پر اس کی شکل کیا ہو گی، یہ واضح نہیں۔

اس کے بعد، جب مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو جائیں گے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا تو امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

اور آخر میں مفاہمتی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US