ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز آج سوئٹزر لینڈ میں ہوگا، جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود زیورخ پہنچ چکے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کا اعلیٰ سطحی وفد محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزر لینڈ پہنچا ہے۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت سیکیورٹی، مرکزی بینک اور تیل کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔
ایرانی وفد کو ’’میناب 168‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو مذاکراتی عمل میں ایران کی نمائندگی کرے گا۔
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزر لینڈ پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کے ایک یا دو روز تک سوئٹزر لینڈ میں قیام کا امکان ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینا اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
امریکی صدر کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزر لینڈ میں موجود ہیں، جبکہ قطری نمائندے بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق مذاکرات کا یہ دور خطے کی صورتحال اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔