امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس اہم سمندری گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو امریکا سخت ترین ردعمل دے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی قیادت کو براہِ راست پیغام پہنچایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتائج ایران کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ایران کو خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک رسائی نہ ہوسکی تو امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول یا ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات پر غور کرسکتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھالنے کا آپشن بھی موجود ہے۔
ایک اور بیان میں امریکی صدر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے یورینیم افزودگی کے حق سے متعلق مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کو اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے، بصورت دیگر مزید سخت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں اخبار کو بدعنوان اور ناکام قرار دیتے ہوئے اس رپورٹ کو مسترد کیا جس میں ایران کے خلاف جنگ سے متعلق پیش رفت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سے متعلق کئی تنصیبات اور یونٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے بعض اہم دھڑے ختم ہوچکے ہیں، معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز کھلا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل جاری ہے، جبکہ امریکا میں معیشت اور اسٹاک مارکیٹ بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔