شہید لیفٹیننٹ طحہ نواز عباسی کے والدین کی جذباتی گفتگو

image

گزشتہ ہفتے جامِ شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے بہادر سپوت شہید لیفٹیننٹ طحہ نواز عباسی کے والدین نے اپنے شہید بیٹے کی یادوں، کردار اور وطن سے محبت پر گفتگو کرتے ہوئے جذباتی لمحات شیئر کیے۔

شہید کے والد پروفیسر شاہد نواز عباسی کا کہنا تھا کہ طحہ نہ صرف ایک بہترین فوجی افسر بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے اچھا سوچتا، سب کی مدد کرتا اور ہمارے گھر کی رونق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی شہادت پر فخر ہے، تاہم اس کی جدائی کا غم ہمیشہ دل میں رہے گا۔

دوسری جانب شہید کی والدہ اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ طحہ کی یاد ایک لمحے کے لیے بھی دل سے نہیں جاتی۔ وہ میری بیٹیوں جیسا بیٹا تھا، ہر چھوٹی بڑی بات مجھ سے شیئر کرتا تھا اور گھر کے ہر فرد کا بے حد خیال رکھتا تھا۔

والدہ نے بتایا کہ صرف دو ماہ قبل ہی طحہ کی شادی ہوئی تھی۔ ”ابھی دلہن کے ہاتھوں کی مہندی کا رنگ بھی نہیں اترا تھا کہ میرا بیٹا جامِ شہادت نوش کر گیا۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے میرے بیٹے کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کیا، لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے دل آج بھی اسے ڈھونڈتا ہے۔“

انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا، ”آج بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید کہیں سے فون آئے گا اور وہ کہے گا، ‘ماما! میں گھر آ رہا ہوں۔’ کبھی لگتا ہے وہ اپنے کمرے سے نکلے گا اور کہے گا، ‘ماما، آئیں اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔“

شہید کی والدہ نے مزید کہا کہ ان کے تینوں بیٹے پاک فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اگر ان کا ایک اور بیٹا بھی ہوتا تو وہ اسے بھی وطن کے دفاع کے لیے پاک فوج میں بھیجتیں۔

انہوں نے بتایا کہ طحہ اکثر کہا کرتا تھا، ”ماما! میں جامِ شہادت نوش کروں گا۔ یہ جو سٹار میرے سینے پر ہیں، یہ صرف میرے لیے نہیں بلکہ آپ اور پوری قوم کے لیے ہیں“۔

والدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کی یہ خواہش پوری کر دی اور اسے شہادت جیسے عظیم رتبے سے نوازا۔

شہید لیفٹیننٹ طحہ نواز عباسی کے والدین نے کہا کہ ان کے بیٹے نے اپنے وطن، قوم اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور وہ ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US