پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذکورہ خاتون نے اپنے بوائے فرینڈ کی مدد سے منگیتر کو ایک ہفتے قبل 18 جون کو لوہگڑھ قلعے سے دھکا دے کر قتل کیا اور اسے ایک حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک خاتون کو اپنے منگیتر کو لوہگڑھ قلعے سے دھکا دے کر ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پونے پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر اس جرم کا ارتکاب کیا، جس کے بعد ان کے مبینہ بوائے فرینڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذکورہ خاتون نے اپنے بوائے فرینڈ کی مدد سے منگیتر کو ایک ہفتے قبل 18 جون کو لوہگڑھ قلعے سے دھکا دے کر قتل کیا اور اسے ایک حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق خاتون نے اپنے منگیتر کو اس حادثے سے چار دن قبل بھی مارنے کی کوشش کی تھی۔
لوہگڑھ میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت 25 سالہ کیتن اگروال کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ملزمہ کی عمر 20 برس ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون نے پہلے انھیں اپنے بیان میں بتایا تھا کہ : ’میں اور میرے ہونے والے شوہر سیر کے لیے لوہگڑھ گئے تھے۔ وہاں ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر کر ہلاک ہو گئے۔‘
لیکن حکام کے مطابق تفتیش کے دوران خاتون کے ایک مبینہ بوائے فرینڈ کے بارے میں معلومات سامنے آئیں۔
پولیس کو تفتیش کے دوران پتا چلا کہ ان دونوں کا پرانا تعلق تھا، جس کے بعد کیتن اگروال کی موت کا مقدمہ قتل کے طور پر درج کیا گیا۔
پونے (دیہی) کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندیپ سنگھ گِل نے دعویٰ کیا کہ دونوں ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
بی بی سی مراٹھی نے ملزمان، ان کے اہلِ خانہ اور ان کے وکلا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ابھی تک ان کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ ان کا مؤقف موصول ہونے پر اس یہاں شامل کیا جائے گا۔
کیا لڑکی اس رشتے پر رضامند نہیں تھی؟
پونے کے رہائشی کیتن اگروال کی چند ماہ قبل اپنے شہر کی ہی رہائشی رہائشی سیا گوئل سے منگنی ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق ان خاندانوں کا مارکیٹ یارڈ کے علاقے میں الگ الگ کاروبار ہے۔
کیتن اور ملزمہ کی منگنی فروری میں ہوئی تھی اور شادی ایک، دو ماہ میں متوقع تھی۔
تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزمہ کی شادی طے ہونے سے پہلے کنڈھوا کے ایک نوجوان رہائشی سے ان کے تعلقات تھے۔
چونکہ ان دونوں کے آپس میں تعلقات تھے، اس لیے ملزمہ کیتن سے شادی پر رضامند نہیں تھیں۔
ملزمہ اور ان پر یہ بھی الزام ہے کہ ان دونوں نے قتل کو حادثہ ظاہر کرنے کے لیے کیتن کو لوہگڑھ قلعے سے دھکا دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد کیتن کی موت کو قتل کے معاملے کے طور پر درج کیا ہےکیا واقعی کیتن کا قتل کیا گیا؟
پولیس کے مطابق کیتن اور ملزمہ کی شادی طے تھی۔ 18 جون کو ملزمہ کیتن کو سیر کے بہانے لوہگڑھ قلعہ لے گئیں۔
پولیس افسر سندیپ گل کے مطابق ابتدا میں ملزمہ اور کیتن قلعے پہنچے۔
کچھ دیر بعد ملزمہ کے بوائے فرینڈ بھی وہاں پہنچ گئے۔ پولیس کے مطابق کیتن قلعے کے مغربی حصے کی سے نیچے گرے اور زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ نے شور مچایا، جس پر سکیورٹی اہلکار مدد کے لیے پہنچے۔ اسی دوران قلعے کے مغربی حصے میں جھاڑیوں کے درمیان کیتن کی لاش ملی۔
واقعے کے بعد ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ قلعے پر چلتے ہوئے کیتن کا پاؤں پھسلا اور وہ گہری کھائی میں جا گرا۔
ابتدا میں پولیس نے معاملے کو حادثاتی موت کے طور پر درج کیا تھا۔
تفتیش کے دوران شکوک پیدا ہوئے
حادثاتی موت کا مقدمہ درج کرنے کے بعد جب پولیس نے بیانات لینا شروع کیے تو کچھ اہم نکات سامنے آئے۔
کچھ رشتے داروں نے پولیس کو بتایا کہ گذشتہ چند دنوں میں کیتن اور ملزمہ کے درمیان ایک، دو مرتبہ جھگڑا بھی ہوا تھا۔ اس پر پولیس کو شبہ ہوا اور اس نے خفیہ انداز میں تفتیش شروع کی۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ کا کچھ عرصے سے بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلق تھا۔ اس کے بعد مقدمے کی چھان بین کے لیے دو خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
ادھر کیتن کے والد وشال اگروال نے شکایت درج کروائی کہ ملزمہ اور ان کے بوائے فرینڈ نے ان کے بیٹے کو قتل کیا ہے۔
اس کے بعد پولیس نے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کی اور واقعے کے دن ملزمہ کے بوائے فرینڈ کی لوہگڑھ کے علاقے میں موجودگی ثابت ہوئی۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد مقامی کرائم برانچ کی ٹیم نے ملزمہ کے بوائے فرینڈ کو تلاش کر کے انھیں حراست میں لے لیا۔
پولیس نے تفتیش کے دوران بیانات میں تضاد پائے اور پھر خفیہ طور پر معاملات کی جانچ شروع کی تکنیکی شواہد، جائے وقوعہ کے حالات اور ملزمان کی نقل و حرکت کی جانچ کے بعد پولیس نے حادثے پر پڑے پردے کو ہٹا دیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ چتن کے ساتھ شادی پر رضامند نہیں تھیں اور ملزمہ اور ان کے بوائے فرینڈ کے نزدیک کیتن ان کے تعلق میں ایک رکاوٹ تھے، اسی لیے انھیں قتل کر دیا گیا۔
کتین کی والدہ کیا کہتی ہیں؟
ہلاک ہونے والے نوجوان کیتن کی والدہ پاکھی اگروال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: 'آج میرا بیٹا مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ ملزمہ اور اس کا بوائے فرینڈ میرے بیٹے کی موت کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ میں نے اس لڑکی کو اپنی بہو سمجھا تھا، مگر اس نے میرے ساتھ بڑا دھوکہ کیا۔ اس نے جھوٹ بولا۔ اب بہت سی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ وہ دو تین بار ہمارے گھر آئی تھی۔'
انہوں نے مزید کہا: 'گھر میں پوجا تھی تو وہ اس وقت بھی آئی تھی۔ اپنی سالگرہ پر بھی آئی، دو تین بار ہمارے گھر کھانا کھانے آئی۔
'میں اس سے کئی مرتبہ ملی، ہم کئی بار ساتھ خریداری کے لیے گئے۔ ہمیں کبھی شک نہیں ہوا کہ یہ ایسی لڑکی ہو سکتی ہے۔ اسے سزائے موت دی جانی چاہیے۔'