فرانسیسی اخبار لا نوویل ویل کے مطابق تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب جانوروں کے شیلٹر ہوم میں کام کرنے والوں نے کئی جانوروں ک ٹانگیں بندھی دیکھیں اور ان کے جسموں پر زخم بھی تھے۔ بعد ازاں جانوروں کے ڈاکٹر نے بھی جانوروں پر جنسی تشدد کی تصدیق کی تھی۔
فائل فوٹوفرانس کی ایک عدالت نے ایک 19 سالہ افغان شخص کو بھیڑ اور بکریوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے پر 30 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
بی بی سی پشتو نے فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ فرانس کے شہر مارسیل کے نزدیک واقع جانوروں کے ایک شیلٹر ہوم میں پیش آیا۔
گذشتہ پیر کو اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے فرانس کے شہر ایکسوں پرووینس کی عدالت نے حکم دیا تھا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم کو ملک بدر کر دیا جائے۔
عدالت نے حکام کو مجرم کا نام جنسی اور پرتشدد جرائم کے مرتکب افراد کی فہرست میں ڈالنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق بھیڑ بکریوں پر تشدد کے یہ واقعات رواں سال فروری اور اپریل کے درمیان پیش آئے تھے۔
فرانسیسی اخبار لا نوویل ویل کے مطابق تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب جانوروں کے شیلٹر ہوم میں کام کرنے والوں نے کئی جانوروں ک ٹانگیں بندھی دیکھیں اور ان کے جسموں پر زخم بھی تھے۔ بعد ازاں جانوروں کے ڈاکٹر نے بھی جانوروں پر جنسی تشدد کی تصدیق کی تھی۔
شیلٹر ہوم کی مالک کیسینڈرا سورٹینو کا کہنا تھا کہ انھوں نے جانوروں کی ٹانگیں بندھی اور ان کے جنسی اعضا پر زخم دیکھے اور انھیں انتہائی ڈرا ہوا پایا۔
شیلٹر ہوم کے اہلکاروں نے مجرم کی شناخت کے لیے نگرانی کرنے والے کیمرے نصب کر دیے۔
دورانِ سماعت استغاثہ کا کہنا تھا کہ ویڈیو فوٹیج میں مشتبہ شخص کو کئی بار جانوروں کی پناہ گاہ میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کے مطابق جب مجرم کو گرفتار کیا گیا تو وہ اس وقت بکری کے ساتھ نازیبا حالت میں تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مجرم کا ڈی این اے جانوروں کے پاس سے ملا ہے جبکہ اس کا موبائل فون ڈیٹا ظاہر کرتا ہے جب واقعات رونما ہوئے تو اس وقت وہ وہیں موجود تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص نے کم از کم پانچ بکریوں اور ایک چھ ماہ کی بھیڑ کا ’جنسی استحصال‘ کیا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جن جانوروں کا جنسی استحصال کیا گیا ان میں سے ایک بکری بعد میں زخموں کے سبب ہلاک ہو گئی۔
ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران ملزم نے الزامات سے انکار کیا اور خود کو ایک ’نارمل شخص‘ قرار دیا۔
ملزم سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے لیے بنائے گئے ایک مرکز میں رہ رہا تھا۔
سماعت سے قبل ملزم کا دماغی معائنہ کیا گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ملزم کو کوئی ذہنی بیماری نہیں۔
فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملزم نومبر 2025 میں فرانس پہنچا اور اس نے سیاسی پناہ کی درخواست کی۔ ملزم کا دعویٰ تھا کہ اس کے خاندان کے افراد افغانستان میں جنگ کے دوران مارے گئے ہیں۔
دورانِ تفتیش ملزم نے حکام کو بتایا کہ جس رات اسے گرفتار کیا گیا اس کی مارسیل جانے والی ٹرین چھوٹ گئی تھی۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اس کے پاس رات گزارنے کی کوئی جگہ نہیں تھی، جس کہ وجہ وہ ٹرین سٹیشن کے نزدیک واقع جانوروں کی پناہ گاہ کے اندر چلا گیا۔

اس واقعے نے فرانس میں ایک ایسے وقت میں بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا کی ہے جب ملک میں امیگریشن، عوامی تحفظ اور پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں بحث پہلے ہی سیاسی رخ اختیار کر چکی ہے۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق مجرمانہ مقدمات کی انفرادی طور پر تفتیش کی جانی چاہیے اور انفرادی کارروائیوں کو پوری پناہ گزین برادری کو بدنام کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
یورپ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے فرانس ایک اہم مقام ہے، خاص طور پر ان افغان شہریوں کے لیے جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے ملک سے فرار ہوئے تھے۔
یورپی حکام کو اب بھی سکیورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ پناہ کے متلاشی افراد کی مدد کے درمیان توازن قائم کرنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔