ایسمے کے مطابق دو سال قبل بھی انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا، جب وہ مارچ کے ایک دن شام چھ بجے جوبلی لائن کی ٹرین میں ایک دوست کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے بہت قریب کھڑا ہے، خود کو چھو رہا ہے۔‘
ایسمے رائس سٹریٹفورڈ سٹیشن، مشرقی لندن میں موجود ہیںچند ہفتے قبل سنیچر کی ایک رات تقریباً 11 بجے ایسمے رائس لندن کی ایلزبتھ لائن پر ایک ٹرین میں سوار تھیں۔ وہ فیرنگڈن میں دوستوں کے ساتھ رات کے کھانے کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں جب دو آدمی اس مصروف ڈبے میں سوار ہوئے جس میں وہ موجود تھیں۔
ایسمے کہتی ہیں کہ ’ان میں سے ایک آدمی میری توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن میں نے اسے نظرانداز کیا اور اپنے سٹاپ کا انتظار کرتی رہی۔‘
جب ٹرین سٹریٹفورڈ سٹیشن پر داخل ہو رہی تھی، ان میں سے ایک آدمی نے ایسمے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ دوسرا آدمی اس وقت ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا جب وہ اترنے کی کوشش کر رہی تھیں اور جیسے ہی وہ جلدی میں اس کے پاس سے گزریں، ایسمے کہتی ہیں کہ اس شخص نے انھیں چھوا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سب اتنی تیزی میں ہوا کہ میرے دماغ کو سمجھنے میں ایک لمحہ لگا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے ان کی طرف رخ کیا اور وہ مسکرا رہے تھے، جیسے یہ کوئی مذاق ہو۔ پھر وہ غائب ہو گئے۔ میں پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔ ششدر، خوفزدہ اور خود کو بے توقیر محسوس کر رہی تھی۔‘
یہ ایک عام مصروف سنیچر کی شام تھی، اردگرد بہت سے لوگ تھے، لیکن کوئی پولیس افسر موجود نہیں تھا۔ پھر وہ الفاظ جو ایسمے نے ٹرینوں اور سٹیشنوں پر کئی بار سنے تھے، اچانک ان کے ذہن میں گونجے: ’دیکھیں۔ بتائیں۔ حل ہو جائے گا۔‘
انھوں نے برٹش ٹرانسپورٹ پولیس (بی ٹی پی) کو 61016 پر ٹیکسٹ کیا، جو ریلوے نیٹ ورک پر غیر ہنگامی واقعات کی رپورٹنگ کے لیے مختص نمبر ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 10 ہزار میل سے زیادہ پٹریوں اور تقریباً تین ہزار سٹیشنز پر مشتمل اپنی حدود میں آنے والے ہر جرم پر ردعمل دیتی ہے، سماج دشمن رویے سے لے کر دہشت گردی تک۔
ایسمے کو ایک خودکار جواب موصول ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی رپورٹ اہم ہے اور کوئی شخص ان سے جلد رابطہ کرے گا۔
پھر ایسمے سے ٹیکسٹ کے ذریعے مزید تفصیل فراہم کرنے کو کہا گیا، تو انھوں نے جو کچھ ہوا، کب اور کہاں ہوا، اس کی تفصیلات بھیج دیں اور کال کا انتظار کرنے لگیں۔

حملے کو عوام کے سامنے لانا
لیکن ملک کے مصروف ترین ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس میں سے ایک پر جنسی حملے کا شکار ہونے کے 13 گھنٹے بعد بھی، ایسمے کو کسی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
چنانچہ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی کہانی شیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے فون سے خود کو ریکارڈ کیا، واقعہ بیان کیا، یہ بتایا کہ مجھے جواب نہ ملنے پر کتنی مایوسی ہے اور پولیس کی طرف سے موصول ہونے والے پیغام کا سکرین شاٹ بھی شامل کیا۔
ایسمے نے یہ ویڈیوز انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر پوسٹ کیں اور ایک گھنٹے کے اندر انھیں ہزاروں بار دیکھا جا چکا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ سینکڑوں تبصرے آئے، جن میں خواتین کے پیغامات بھی شامل تھے جنھوں نے کہا کہ وہ بالکل سمجھتی ہیں کہ وہ کس بارے میں بات کر رہی ہیں۔
ایسمے کہتی ہیں کہ ’زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ مجھے پولیس کی کال موصول ہوئی۔‘
’انھوں نے بتایا کہ انھوں نے تفتیش شروع کر دی ہے اور میرا بیان لینے کے لیے وقت بھی طے کیا ہے۔‘
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اس دن ایسمے کو کال ان کی ویڈیو کی وجہ سے نہیں کی تھی۔
تاہم ایسمے کہتی ہیں کہ ’میں وقت کی مطابقت کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ میں نے ذاتی طور پر واقعہ رپورٹ کی تھی اور کوئی جواب نہیں ملا۔‘
’میں نے عوامی طور پر بات کی اور اچانک فوری کارروائی ہونے لگی۔‘
ایک دن بعد ٹرانسپورٹ پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک تبصرہ ایسمے کی ویڈیو کے ساتھ دیگر سینکڑوں تبصروں میں نظر آیا، ’ہمیں افسوس ہے کہ آپ کو ریلوے پر اس خوفناک رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم جنسی حملوں کی تمام رپورٹس کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘
اس کے بعد ایک بیان بھی دیا گیا جس میں کہا گیا کہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل ایان ڈرمونڈ-سمتھ نے بعد میں ایسمے کو کال کی اور تسلیم کیا کہ 13 گھنٹے کی تاخیر بہت زیادہ تھی۔
ایسمے کہتی ہیں کہ ’انھوں نے کہا کہ جس شام میں نے رپورٹ کی، اسی شام مجھے کال آنی چاہیے تھی۔ اب مجھے بتایا گیا ہے کہ اس بات کی اندرونی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ اس رات مجھے اضافی مدد کیوں فراہم نہیں کی گئی۔‘
پولیس نے اپنا معروف عوامی حفاظتی نعرہ ایک دہائی پہلے متعارف کروایا تھا۔
یہ جملہ کہ ’دیکھیں۔ بتائیں۔ حل ہو جائے گا‘۔۔۔ سٹیشنوں اور ٹرینوں پر اعلانات کے نظام کے ذریعے نشر کیا جاتا ہے، اور ریلوے نیٹ ورک پر جگہ جگہ پوسٹرز پر نمایاں طور پر دکھایا جاتا ہے۔
حالیہ آگاہی مہمات میں خاص طور پر پکڑنا، چھونا، گھورنا اور کپڑوں کے نیچے خفیہ تصاویر لینے کو جنسی ہراسانی کی ایسی شکلوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جنھیں عوامی ٹرانسپورٹ پر برداشت نہیں کیا جاتا اور ان کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔
لیکن ایسمے کہتی ہیں کہ ان کے تجربے کی بنیاد پر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ پولیس اتنی تیزی سے ردعمل دے سکتی ہے کہ لوگوں کی حقیقی معنوں میں حفاظت کر سکے یا ناپسندیدہ رویے کو روک سکے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ پہلی بار نہیں تھا کہ مجھے پولیس کو رپورٹ کرنے کے بعد ناقص ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔‘
ایسمے کے مطابق دو سال قبل بھی انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا، جب وہ مارچ کے ایک دن شام چھ بجے جوبلی لائن کی ٹرین میں ایک دوست کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے بہت قریب کھڑا ہے، خود کو چھو رہا ہے۔‘
’میں دور ہو گئی، لیکن پھر نیچے دیکھا تو احساس ہوا کہ وہ دوبارہ قریب آ گیا ہے اور میرے ساتھ لگ کر مشت زنی کر رہا ہے۔‘
’مجھے وہ صدمہ یاد ہے — میں اس پر چیخی، اس کی تصاویر لیں، میں نے کھل کر اس کی نشاندہی کی تاکہ اس بھری ہوئی ٹرین میں سب سن سکیں۔ لیکن کوئی آگے نہیں بڑھا۔‘
ایسمے کہتی ہیں کہ ان کی دوست انھیں ڈبے میں آگے لے گئیں اور جب وہ سٹریٹفورڈ پہنچیں تو سیدھا پلیٹ فارم پر موجود پولیس کے پاس گئیں۔
ان کے مطابق انھوں نے بیان دیا، جو اگلے دن تحریر کیا گیا اور پولیس نے سی سی ٹی وی میں اس شخص کو تلاش کر لیا۔
لیکن عوام سے مزید معلومات کی درخواست کے لیے میڈیا اپیل کئی ہفتوں بعد جاری کی گئی۔ کسی کی شناخت نہیں ہو سکی اور اپریل کے وسط تک ایسمے کو بتایا گیا کہ مزید کوئی کارروائی ممکن نہیں۔
’یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے‘
دوسری بار جنسی حملے کے بعد ایسمے کی شیئر کی گئی ویڈیوز آن لائن تیزی سے پھیل گئیں۔
یہ رپورٹ لکھے جانے کے وقت تک انھیں 500,000 سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے اور لوگوں کی طرف سے اسی طرح کے تجربات شیئر کرنے والے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کچھ لوگ تبصروں میں غلط بات کرتے ہیں۔۔ وہ مجھے اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں یا حملہ آوروں کے بارے میں نسلی تبصرے کرتے ہیں۔‘
’لیکن میں واضح کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‘
سنہ 2025 کے آخر میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لندن انڈرگراؤنڈ پر جنسی جرائم کی رپورٹس پانچ سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔
2024-25 میں تمام ٹیوب لائنز پر 595 جنسی جرائم رپورٹ ہوئے، جو 2019-20 (776 رپورٹس) کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
’ٹرانسپورٹ فار لندن‘ کی جانب سے آزادیِ معلومات کی درخواست کے جواب میں جاری کیے گئے اس ڈیٹا میں لندن اوورگراؤنڈ، ڈی ایل آر یا الزبتھ لائن شامل نہیں تھی۔
سٹریٹفورڈ سٹیشن کی ایک تصویراس وقت ٹرانسپورٹ فار لندن نے کہا کہ ’عوامی ٹرانسپورٹ پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے نمٹنا ہمارے اور ہمارے پولیس شراکت داروں کے لیے طویل عرصے سے ترجیح رہا ہے اور اس سلسلے میں کئی سالوں سے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
ایسمے کے حملے کے صرف تین دن بعد 9 جون 2026 کو ایک مسافر کو جنسی بنیاد پر ہراسانی کے نئے قانون کے تحت سزا دی گئی۔
اس نے لندن جانے والی ٹرین میں ایک خاتون کے بال پکڑے اور اسے بوسہ دینے کی کوشش کی تھی۔ اسے 12 ماہ کی کمیونٹی سزا، 150 گھنٹے بلا معاوضہ کام اور 15 دن کے بحالی پروگرام میں شامل ہونےکی سزا سنائی گئی۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر جنسی جرائم سے نمٹنا ایک ترجیح ہے کیونکہ وہ ’ہر فرد کے محفوظ سفر کے حق کے تحفظ کے لیے پرعزم‘ ہے۔
ایک ترجمان نے کہا کہ 61016 نمبر پر ہر سال 250,000 سے زیادہ پیغامات موصول ہوتے ہیں اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ مسافروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے کہ وہ تاریخی طور پر کم رپورٹ ہونے والے جرائم، جیسے جنسی جرائم، کی اطلاع دے سکیں۔
’یہ بے جا اعتماد نہیں ہے، کیونکہ ہم بارہا ثابت کر چکے ہیں کہ ہم مجرموں کو پکڑنے، انھیں عدالتوں کے سامنے پیش کرنے اور متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنے تک نہیں رکیں گے۔‘