کیا شام میں احمد الشراع کی حکومت لبنان میں حزب اللہ کے خلاف نیا محاذ کھولنے جا رہی ہے؟

شام کی حزب اللہ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑتی نظر آرہی ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا دی جانے والی یہ تجویز ہے کہ جہاں اسرائیل ’ناکام‘ رہا ہے وہاں دمشق مداخلت کر سکتا ہے۔
US, Saudia Arabia and Syria
Reuters
ٹرمپ کے شام کے صدر احمد الشراع کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں

حزب اللہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ’فریم ورک معاہدے‘ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سنیچر کے روز جاری بیان میں حزب اللہ کے رہنما شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل کیا جانا چاہیے اور اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔

ایسے میں شام کی حزب اللہ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑتی نظر آرہی ہیں۔

ان قیاس آرائیوں کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا دی جانے والی یہ تجویز ہے کہ جہاں اسرائیل ’ناکام‘ رہا ہے وہاں دمشق مداخلت کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کے شام کے صدر احمد الشراع کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ٹرمپ اور احمد الشراع کی پہلی ملاقات گذشتہ برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کروائی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے انھیں (احمد کو) ’نوجوان اور پرکشش‘ شخصیت قرار دیا۔

اس کے بعد نومبر میں وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی صدر بن گئے تھے۔

نومبر 2025 میں احمد الشراع وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی صدر بن گئے۔
Anadolu via Getty Images
نومبر 2025 میں احمد الشراع وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی صدر بن گئے۔

اوول آفس میں ٹرمپ نے اُن کا استقبال کیا۔ انھوں نے الشرع پر ٹرمپ برانڈ کا کولون چھڑکا اور پھر انھیں اُن کی بیوی کے لیے گھر لے جانے کے لیے کافی پرفیوم دیے۔

دسمبر میں بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ کیمروں کے لیے دکھاوا کرنے کے علاوہ بھی سعودی عرب اور مغربی حکومتیں آلشراع کو مشرق وسطیٰ کے دل میں واقع ملک شام کو مستحکم کرنے کے لیے بہترین راستہ سمجھتی ہیں۔

الشراع ایک سابق جہادی رہنما ہیں اور ان کی حکومت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی مخالف سمجھی جاتی ہے۔

ماضی میں حزب اللہ نے شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران بشار الاسد کی فورسز کے ساتھ مل کر باغی گروہوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔

اسد خاندان کے زیرِ اقتدار شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں مداخلت کی اور کئی دہائیوں تک لبنان پر ان کا اثر و رسوخ قائم رہا۔ تاہم 2005 میں شام نے اپنی فوجیں لبنان سے واپس بُلا لی تھیں۔

حالیہ ہفتوں میں یہ قیاس آرائی زور پکڑ رہی ہے کہ شام میں لبنان کی سرحد پر فوج کی مبینہ تعیناتی کسی ممکنہ دراندازی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ دمشق اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ یہ نقل و حرکت دفاعی نوعیت کی ہے۔

شام اور لبنان کی سرحد سے متعلق اطلاعات کیا کہتی ہیں؟

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کی جانب سے 24 جون کو جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حمص صوبے میں سرحد کے ساتھ شامی فوج کی نقل و حرکت جاری ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ فوج کی نقل و حرکت حمص کے سرحدی علاقوں میں ہو رہی ہے اور یہ دمشق کے نواحی علاقے ریف دمشق، طرطوس اور قلمون کے پہاڑی سلسلے تک پھیلی ہوئی ہے۔

ایس او ایچ آر کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت بھاری ہتھیار اور فوجی گاڑیاں حلب سے سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کر رہی ہے۔

تاہم یہ ادارہ گذشتہ کئی ماہ سے اس طرح کے دعوے کرتا آیا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے 17 جون کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگجو، جن میں ازبک شامل ہیں، لبنان میں دراندازی کی مشقیں کرتے رہے ہیں۔

24 جون کو ایک شامی سکیورٹی ذریعے نے لبنانی اخبار ’النهار‘ سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ سرحد پر کوئی غیر معمولی کمک نہیں پہنچائی گئی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے شامی سکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ نقل و حرکت معمول کی فوجی تعیناتی کا حصہ ہے اور اس سے کسی غیر معمولی تیاری کا اشارہ نہیں ملتا۔

شامی فوجی
AFP via Getty Images
فائل فوٹو

آن لائن کیا دعوے کیے جا رہے ہیں؟

تاہم سرحد پر شامی فوج کی اضافی نفری پہچائے جانے سے متعلق دعوؤں اور ٹرمپ کے بیانات نے سوشل میڈیا پر افواہوں کی ایک لہر کو جنم دیا ہے۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر افواہیں شامی حکومت مخالف اکاؤنٹس سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

کرد حامی روزاوا نیٹ ورک نے ان دعوؤں کو اس بات کا ثبوت قرار دیا ہے کہ دمشق ایک حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس ہی طرح ایک علوی فیس بک پیج نے 23 جون کو دعویٰ کیا کہ الشراع حکومت کے حامی تقریباً پانچ ہزار جنگجو ممکنہ کارروائی سے پہلے سرحدی قصبے القصیر پہنچ چکے ہیں۔ فیس بک پیج پر جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک سابق جہادی کمانڈر اس فوجی نقل و حرکت کی قیادت کر رہا ہے۔

بعد ازاں شامی فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم ’کشاف‘ نے اس دعوے کو غلط قرار دیا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایک دروز اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ اس میں لبنانی سرحد کے نزدیک شامی فوج کی کمک بشمول توپخانے اور ٹینک دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاہم آزاد شامی فیک چیکنگ پلیٹ فارم ’ویریفائے-سی‘ کے مطابق یہ ایک پرانی ویڈیو تھی جس میں عراق کی سرحد کے قریب فوجی تعیناتی دکھائی گئی تھی۔

اب افواہوں کی یہ لہر لبنان تک بھی پہنچ گئی ہے۔ کچھ لبنانی ایکس صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سرحد کے نزدیک شامی فوج کے جمع ہونے کے جواب میں مقامی قبائلیوں نے بھی نقل و حرکت شروع کر دی ہے۔

یہ قیاس آرائیاں کیوں جنم لے رہی ہیں؟

یہ قیاس آرائیاں زیادہ تر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد پیدا ہوئیں، جن میں انھوں نے بارہا کہا کہ شام لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے پہلی بار سات جون کو امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بارے میں بات کی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف ’زیادہ سرجیکل‘ کارروائیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ امریکہ شام کو اس میں کردار ادا کرنے کی ’سفارش‘ کر سکتا ہے۔

16جون کو فرانس میں جی-سیون کے موقع پر ٹرمپ نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ’شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیں‘ کیونکہ دمشق یہ کام ’بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔‘

21 جون کو فاکس نیوز نے خبر دی کہ ٹرمپ نے چینل کو بتایا ہے کہ انھیں اس بات پر ’مایوسی‘ ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو ختم نہیں کر سکا اور وہ اس معاملے کو ’شام کے حوالے کرنے‘ کے قریب ہیں۔

ٹرمپ کے ان بیانات سے پہلے امریکہ اس قسم کی تجویز سامنے رکھ چکا ہے۔

رواں سال مارچ میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی تھی کہ واشنگٹن نے دمشق کو کہا ہے کہ مشرقی لبنان میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کرے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں مدد مل سکے۔

تاہم امریکی ایلچی ٹام بریک نے بعد میں اس خبر کی تردید کی تھی۔

لبنان میں مداخلت سے متعلق افواہیں اور شام کا مؤقف

شامی صدر احمد الشراع اور دیگر حکام بارہا اس بات کی تردےد کر چکے ہیں کہ شام لبنان میں فوجی مداخلت کی تیاری کر رہا ہے۔

13 جون کو صدر الشراع نے دمشق کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک وفد کو بتایا کہ لبنان میں مداخلت سے متعلق افواہیں ’غلط‘ ہیں۔

یو اے ای کے چینل ’المشہد‘ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں احمد الشراع نے ایک بار پھر اس معاملے پر بات کی۔

21 جون کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے معروف لبنانی صحافی ٹونی خلیفہ کو بتایا کہ ’اگر ہمارا کسی تصادم یا جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ ہوتا تو ہم واضح طور پر کہتے… ہم لبنان میں اپنے لوگوں کے لیے خیر کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شام لبنان میں کسی حل کے لیے ’محفوظ راستہ` تلاش کرنے میں مدد تو فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر اپنے پڑوسی پر اپنا اثرورسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔

شامی حکومت کے ترجمان نے بھی 11 جون کو سعودی چینل ’الحدث‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اسی طرز کا مؤقف اپنایا۔

نورالدین البابا کا کہنا تھا کہ دمشق لبنان کو اپنے حصے کی طرح نہیں سمجھتا اور لبنان میں شام کے کسی بھی کردار کے لیے لبنانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

ٹرمپ، احمد الشراع
Anadolu via Getty Images

لبنان اور حزب اللہ کا مؤقف کیا ہے؟

بیروت نے بھی ان قیاس آرائیوں کی اہمیت کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون نے 24 جون کو کہا کہ احمد الشراع کے حالیہ بیانات نے لبنان میں شامی فوجی کردار سے متعلق بار بار سامنے آنے والی افواہوں کو ’خاتمہ‘ کر دیا ہے۔

وزیراعظم نواف سلام نے بھی الشراع کی جانب سے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں اختیار کیے گئے مؤقف کو ’برادرانہ اور واضح‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے شام کے لبنان کے بارے میں عزائم سے متعلق گمراہ کن افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے 19 جون کو ایک خطاب میں کہا کہ شامی مداخلت کا خیال دراصل امریکہ اور اسرائیل کی اس سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔

ان کے مطابق اس منصوبے میں ’شام پر دباؤ‘ ڈالنا بھی شامل ہے تاکہ وہ مشرق کی جانب سے لبنان مداخلت کرے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر شمال سے گھیرا ڈالے۔

’خدا کا شکر ہے کہ شامی حکومت نے اس کا جواب نہیں دیا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US