میمز، پاپ کلچر اور خفیہ کوڈ: داعش کے حامی ٹک ٹاک سے نوجوانوں کو کیسے راغب کر رہے ہیں؟

ٹِک ٹِک ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جسے داعش کے حامی نوجوانوں میں مخصوص پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔اس کا نظام اور مختصر ویڈیوز کا انداز ایسے مواد کو پھیلانے میں مدد دیتا ہے جو چھپا ہوا ہو اور آسانی سے پکڑا نہ جائے اور یہ صارفین کو شدت پسند خیالات کی طرف لے جا سکتا ہے یا خفیہ پلیٹ فارمز تک پہنچا سکتا ہے۔
ٹک ٹاک
Getty Images
داعش کے حامی ٹِک ٹاک کے نوجوان صارفین کو بھرتی کرنے اور شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں

نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے حامی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں، جہاں وہ ایسے نوجوان صارفین تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان پلیٹ فارمز پر زیادہ فعال نہیں جہاں دیگر شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔

اگرچہ ٹک ٹاک ایک ایسے راستے کا کام کرتا ہے جو صارفین کو ٹیلیگرام اور ڈسکارڈ جیسے خفیہ پلیٹ فارمز کی طرف لے جاتا ہے جہاں کھل کر پروپیگنڈا شیئر کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسا آن لائن نیٹ ورک بھی بن چکا ہے جہاں کم عمر اور نوجوان صارفین نسبتاً کم شدت والے جہادی مواد کے ساتھ مشغول ہوتے ہیں۔

داعش کے حامی ٹِک ٹاک کے نوجوان صارفین کو بھرتی اور شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

اپنے طریقہ کار کے مطابق وہ بعض اوقات ایسے افراد کو نشانہ بناتے ہیں جو اس بات سے پوری طرح آگاہ بھی نہیں ہوتے کہ وہ شدت پسند مواد دیکھ رہے ہیں۔

داعش سے منسلک کسی بھی ٹِک ٹاک اکاؤنٹ کو فالو کرنے کے بعد پلیٹ فارم کا تجویز کردہفیچر خود بخود اسی طرح کے دیگر پروفائلز سامنے لاتا ہے جس کے نتیجے میں لاعلم صارفین کے سامنے الگورتھم کے ذریعے مزید شدت پسند مواد آ سکتا ہے۔

کچھ ایسا ہی رجحان انسٹاگرام پر بھی دیکھا گیا ہے۔

اس تنظیم کے حامی عموماً مختصر، جذباتی اور فوری توجہ کا حامل کانٹینٹ (مواد) شامل کرتے ہیں اور یہی انداز ٹک ٹاک کا خاصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

یہ کانٹینٹ دیگر پلیٹ فارمز مثلاً فیس بک اور ٹیلیگرام کے مقابلے میں کم پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس میں میمز، مغربی پاپ کلچر، موسیقی اور سوشل میڈیا رجحانات شامل ہوتے ہیں۔

اس میں پہچان چھپانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں ویڈیو یا آواز کو بگاڑنا، غیر متعلق ہیش ٹیگز اور موسیقی کا استعمال شامل ہے تاکہ نظام کی نگرانی سے بچا جا سکے۔

داعش کے حامیوں کا مواد شاذ و نادر ہی واضح طور پر اس نام سے پیش کیا جاتا ہے خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو اس طرح کے مواد سے واقف نہیں ہوتے۔

داعش کے سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے لیے گئے اس مواد کو اکثر مختصر، ترمیم شدہ کلپس کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔

اسمضمون میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہداعش کے حامی ٹِک ٹاک پر کیسے کام کرتے ہیں، وہاں کیسا مواد پھیلاتے ہیں اور اپنی پہچان چھپانے کے لیے کیا طریقے استعمال کرتے ہیں تاکہ لوگ اس سے متاثر ہو سکیں۔

ساتھ ہی اس میں بی بی سی مانیٹرنگ کی پہلے کی تحقیق بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ داعش کے حامی انسٹاگرام کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔

طریقہِ کار

اس تحقیق میں دو ماہ کے دوران ٹِک ٹاک پر فالو کیے گئے 355 اکاؤنٹس میں سے 30 ایسے اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا جو داعش سے متعلق تھے۔

قریب سے جائزہ لینے پر ان کے مواد کی نوعیت، پیغامات، تبصرے، لائک یا شیئر کی گئی پوسٹس، پروفائل تصاویر، صارف نام، تعارف اور داعش سے متعلق کلمات شامل تھے۔

اس تحقیق میں ایک بڑی مشکل جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ایسے اکاؤنٹس اکثر اپنی اصل پہچان چھپانے کے لیے مبہم زبان، طنز یا اشاروں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ کون واقعی تنظیم کا حامی ہے اور کون صرف مذاق یا تنقید کے طور پر ایسا مواد استعمال کر رہا ہے۔

زیادہ تر مواد عربی اور انگریزی میں تھا لیکن فرانسیسی، ترک اور پرتگالی زبانوں میں بھی ایسا مواد ملا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف زبانوں میں بھی پہچان چھپانے کے طریقے استعمال ہو رہے ہیں۔

ٹِک ٹاک کے کچھ فیچرز جیسے آوازیں اور لائیو سٹریم بھی ایسے اکاؤنٹس استعمال کرتے پائے گئے، جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ٹِک ٹاک پر داعش کے حامیوں کی حکمت عملی

داعش سے متعلق مواد میں اس گروہ کو فعال، مضبوط اورثابت قدم دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے آن لائن اور ہر طرح کے دباؤ کے باوجود قائم ہے۔

نوجوان صارفین کو گروہ کے بارے میں مثبت تصور دینے کے لیے خاص طور پرعراق اور شام کے ماضی کا موادپیش کیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ غالبا صارفین اس دور سے زیادہ واقف نہ ہوں گے۔

اس مواد کو ٹِک ٹاک کے انداز کے مطابق ڈھالا جاتا ہے اورجس میں شکایات، مظلومیت، برتری، شناخت اور طنزیہ مزاح جیسے عناصر شامل ہوتے ہیں۔

اس طرح شدت پسند پیغام کوانتہائی عام انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ پلیٹ فارم پر فٹ ہو جائے۔

مثال کے طور پر کچھ اکاؤنٹس نے امریکی سریز ’بریکنگ بیڈ‘ کے کردار والٹر وائٹ کی میمز بنا کر داعش کے نعرے شامل کیے۔

جن اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا ان میں سے بہت سے اکاؤنٹس میں داعش کے حق میں نعرے موجود تھے مثلا باقیہ (یعنی باقی رہنے والا)، الدولہ الاسلامیہ باقیہ (اسلامی ریاست باقی ہے)۔

ان کے ساتھ اکثر ایسی تصاویر بھی ہوتی تھیں جن میں لوگ انگوٹھے کے ساتھ والی (شہادت کی) انگلی اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں جو شدت پسند علامت کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔

کچھ ٹِک ٹاک اکاؤنٹس خاص طور پرداعش کے سرکاری پروپیگنڈا کو پھیلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں خاص طور پر اس کے ہفتہ وار اخبار النبا کے شمارے۔

یہ اکاؤنٹس اخبار کے تازہ شمارے شیئر کرتے ہیں اور ساتھ ہیپچھلے شماروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ٹیلیگرام کے لنکس بھی دیتے ہیں۔

یہ اکاؤنٹس اکثر اپنے متبادل ٹِک ٹاک اکاؤنٹس کے لنکس بھی شیئر کرتے ہیں تاکہ اگر ایک اکاؤنٹ بند ہو جائے تو دوسرا استعمال کیا جا سکے۔

النبا شیئر کرنے والے اکاؤنٹس میں اکثر پورا شمارہ یا اس کے اہم حصے ایک ہی تصویر میں دکھائے جاتے ہیں اور اس میں عام طور پر پہچان چھپانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔

ٹِک ٹاک پر داعش کے سرکاری پروپیگنڈے کی دوسری مثالوں میں عمق نامی نیوز ایجنسی کی تصاویر شامل تھیں، جن میں جنگجوؤں کے حملے دکھائے جاتے یا حملوں کی ذمہ داری لی جاتی تھی۔

ان تصاویر کو مختلف فونٹس اور پس منظر کے رنگ بدل کر دوبارہ پیش کیا جاتا تھا تاکہ پہچان چھپائی جا سکے لیکن داعش کا حوالہ عام طور پر تبدیل نہیں کیا جاتا تھا۔

داعش کے رہنماؤں کی تعریف

ٹِک ٹاک پر ایسا مواد بھی دیکھا گیاجس میں داعش کے سابق اہم رہنماؤں جیسے ابو بکر البغدادی اور ابو محمد العدنانیاور ان سے جڑے دیگر افراد کا ذکر شامل تھا۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو داعش کی ویڈیوز میں نظر آئے یا حملوں میں ملوث رہے۔

ایسے افراد کو ان اکاؤنٹس پر اکثر ہیرو یا مثال کے طور پر پیش کیا جاتا۔ انھیں عموماً چھوٹی ویڈیوز میں دکھایا جاتا ہے جن میں ان کی تقاریر کے حصے اور داعش سے متعلق تعریفی کلمات ہوتے ہیں۔

حملہ آوروں کی تعریف

ٹِک ٹاک پر داعش کے جنگجووں کی تعریف عام طور پر اس طرح کی جاتی ہے جس میں حامی انھیں بہادر، دین دار اور قربانی پر آمادہ پیش کرتے ہیں۔

ان پیغامات میں ہیرو بننے، ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے اور موت کو گلے لگانے جیسے پیغامات شامل ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر 16 جولائی 2024 کو عمان میں ہونے والے حملے میں شامل افراد کی ایک ویڈیو کو ٹِک ٹاک پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا جبکہ دیگر حملہ آوروں کی ویڈیوز کو بھی ہزاروں بار دیکھا گیا۔

اس کی ایک اور مثال محمد اموازی (جہادی جان) کی سکول کے دور کی تصاویر اور ویڈیوز ہیں اور ٹِک ٹاک پر انھیںبار بار شیئر کیا جاتا ہے۔

ان پر صارفین کی بڑی تعداد کی توجہ رہی اور ان ویڈیوز کو 24 ہزار سے زیادہ لائکس اور تین ہزار سے زیادہ بار محفوظ کیا گیا۔

داعش کے حامیوں کی دیگر پوسٹس میں بھی اس کی کھل کر تعریف کی گئی۔

پرانے دور کا مثبت تاثر اجاگر کرنا

ٹِک ٹاک پر داعش سے متعلق کافی مواد ایسا بھی پایا گیاتھا جس میں اس گروہ کے عراق اور شام میں 2014 سے 2017 کے درمیان کے دور کی پرانی ویڈیوز شامل تھیں۔

ان ویڈیوز میں بچوں کو کپڑے عطیہ کرنا، مذہبی پولیس، سکیورٹی گشت کرنا اور جنگجوؤں کو آپس میں بات کرتے یا کھانا کھاتے دکھایا جاتا تھا۔

اس طرح کا مواد نئے لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے ہوتا ہے تاکہ گروہ کو اس کے عروج کے وقت مثبت انداز میں دکھایا جا سکے اور ایک مشترکہ شناخت کا احساس پیدا ہو۔

وہ اکاؤنٹس جو سابق رہنما ابو بکر البغدادی کی اے آئی سے بنائی گئی تصاویر شیئر کرتے تھے، انھیں بھی صارفین کی زیادہ توجہ ملی جن پر ہزاروں لائکس آئے۔ تاہم کچھ سخت نظریات رکھنے والے حامی اس طرح کی تصاویر سے اتفاق نہیں کرتے۔

ٹِک ٹاک پر ایسا مواد بھی دیکھا گیا جس میں داعش کے جنگجوؤں اور حامیوں کے درمیان بھائی چارے کو دکھایا گیا۔

اس کانٹینٹ میں ایسی تصاویر اور چھوٹی ویڈیوز شاملکی جاتی ہیں جن میں وہ اکٹھے نظر آتے ہیں، گلے ملتے ہیں یا اتحاد کی علامتیں دکھاتے ہیں۔

ایسی پوسٹس جن میں جنگجوؤں کی تصاویر کے ساتھ ’مجھے اپنے بھائیوں سے محبت ہے‘ جیسے جملے یا پھول اور دل کے ایموجیز ہوتے ہیں، ان پر زیادہ توجہ ملتی ہے۔

اس طرح کا موادداعش کو ایک قریبی ’خاندان‘ کے طور پر پیش کرنے کیایک کوشش ہے جو ٹِک ٹاک کے پسند کیے جانے والے رجحانات سے ملتا جلتا ہے۔

مظلومیت کا تاثر اور مخالفین کی بدنامی

کچھ اکاؤنٹس ایسا مواد بھی شیئر کرتے ہیں جس میں گروہ کے افراد اور حامیوں کو مظلوم، متاثر یا ناانصافی کا نشانہ دکھایا جاتا ہے خاص طور پر وہ خواتین اور بچے جو شام کے کیمپوں میں موجود ہیں۔

ایسے مواد میں اکثر تنازعات اور تکلیف کی منتخب ویڈیوز شامل ہوتی ہیں جن کے ساتھ جذباتی جملے، تعریفی ترانے یا داعش کے سابق رہنماؤں کے آڈیو پیغامات ہوتے ہیں۔

ٹِک ٹاک پر داعش کے حامی خود کو اخلاقی طور پر درست اور خدا کے راستے پر دکھاتے ہیں جبکہ اپنے مخالفین، خاص طور پر مغربی ممالک اور عرب حکومتوں کو بدعنوان، ظالم اور اخلاقی پستی میں گرا ہوا دکھاتے ہیں۔

ٹِک ٹاک کا سسٹم بھی اس تاثر کو سپورٹ کرتا ہے کیونکہ ایسے مواد کو دیکھنے کے بعد اسی طرح کا مزید مواد سامنے آتا ہے۔

جب کئی اکاؤنٹس ایک جیسے پیغامات دہراتے ہیں تو صارفین ایک ہی طرح کی کہانی میں گھِر جاتے ہیں جس سے یہ لگتا ہے کہ اس بات پر سب کا اتفاق موجود ہے۔

داعش کے حامی ٹِک ٹِک پر اپنی پہچان کیسے چھپاتے ہیں؟

اپنے ٹِک ٹاک اکاؤنٹس بند ہونے سے بچانے کے لیے داعش کے حامی مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں اور اکثر ایک ہی ویڈیو میں کئی ایسے طریقوں کو ملا دیتے ہیں تاکہ نگرانی سے بچ سکیں۔

فیس بک اور ٹیلیگرام کے مقابلے میں(جہاں اس تنظیم کا مواد زیادہ صاف اور واضح ہوتا ہے) ٹِک ٹاک پر یہ مواد اکثر ٹرینڈنگ، مقبول ثقافتی عناصر، خاص طور پر مغربی انداز کے ساتھ ملا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ داعش کو زیادہ ’ٹرینڈ‘ کرتا اور نوجوانوں کے قریب دکھایا جائے جبکہ صارفین کی توجہ کے لیے مخصوص انداز، لباس اور علامات کے ذریعے ایک خاص طرز کا مواد تیار کیا جاتا ہے۔

پروپیگنڈے کی تصاویر کو فطرت کے مناظر کے ساتھ جوڑنا

داعش کے حامیوں کا ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے پروپیگنڈے کی تصاویر کو فطرت کے مناظر کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک ویڈیو میں ابو بکر البغدادی اور جہادی جان کی تصاویر کو پھولوں اور قدرتی مناظر کے ساتھ دکھایا گیا اور اس میں نیچر، لینڈ سکیپ اور بیوٹی جیسے ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے۔ اس ویڈیو کو 15 ہزار سے زیادہ بار دیکھا گیا۔

کچھ مواقع پر ایسے ہی خوبصورت مناظر کے اندر سخت اور پرتشدد مواد بھی چھپا دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے مواد میں عموماً تعریفی ترانوں کو بدل کر استعمال کیا جاتا ہے اور عام یا گمراہ کن ہیش ٹیگز لگائے جاتے ہیں تاکہ نگرانی سے بچا جا سکے۔

خفیہ انداز

کچھ اکاؤنٹس اپنے مواد کو چھپانے کے لیے کھانے کی تصاویر کے ساتھ داعش سے متعلق پیغامات، ایموجیز، تعریفی ترانے اور ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک پوسٹ میں کھانے کی تصویر کے ساتھ جملہ ’وہ باقی رہیں گے‘ لکھا گیا، جوداعش کے نعرے ’باقیہ‘ کی طرف اشارہ ہے۔

اس کے ساتھ یہ کیپشن بھی تھا کہ ’مومن کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اپنی تلوار نیام میں نہیں رکھتے‘۔ اس میں ایمان اور مضبوطی کا پیغام دیا گیا اور ایسا انداز عام ٹِک ٹاک صارفین بھی استعمال کرتے ہیں۔

اسی پوسٹ میں فوریو پیج ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا گیا جو ٹِک ٹاک پر ویڈیوز کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اعداد کے ذریعے پیغام دینا

ٹِک ٹاک پر داعش کے حامی اپنے تعلق کو ظاہر کرنے اور ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے اعداد اور تاریخوں کا استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ آسانی سے پہچانے نہ جائیں۔

مثال کے طور پر ’49‘ جیسے نمبرز 2016 کے اورلینڈو حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جبکہ ’860‘ افریقہ میں ایک گروہ کے مبینہ حملوں کی تعداد سے جڑا ہوا ہے۔

یہ اعداد ایک طرح کے خفیہ اشارے ہوتے ہیں جنھیں عام لوگ نہیں سمجھ پاتے تاہمتنظیم کے حامی لوگ ان کا مطلب سمجھ لیتے ہیں۔

اعداد کا استعمال حملہ کرنے والوں کو ایک علامت بنا دیتا ہے اور ٹِک ٹاک کی مختصر ویڈیوز کے انداز میں یہ اشارے تیزی سے بنائے اور شیئر کیے جا سکتے ہیں جبکہ ان کا خفیہ مطلب برقرار رہتا ہے۔

اس تحقیق کے نچوڑ کو اگر مختصراً بیان کیا جائے تو ٹِک ٹِک ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جسے داعش کے حامی نوجوانوں میں مخصوص پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

اس کا نظام اور مختصر ویڈیوز کا انداز ایسے مواد کو پھیلانے میں مدد دیتا ہے جو چھپا ہوا ہو اور آسانی سے پکڑا نہ جائے اور یہ صارفین کو شدت پسند خیالات کی طرف لے جا سکتا ہے یا خفیہ پلیٹ فارمز تک پہنچا سکتا ہے۔

ٹِک ٹِک کا تجویز کرنے والا نظام بھی غیر ارادی طور پر ایسے مواد کو زیادہ دکھا سکتا ہے جس سے صارف اسی طرح کے مزید مواد کی طرف بڑھتا ہے اور شدت پسند حلقوں میں شامل ہو سکتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US