پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شب پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم افغان طالبان کے ترجمان کا الزام ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جسمیں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
پکتیا میں پاکستانی فضائی حملے میں نشانہ بننے والے مقام پر لوگ جمع ہیںپاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شب ’مستند انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔
پاکستان کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے اِن مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
اتوار کی شب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جاری ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات اور سنیچر کی شب کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے بعد دو مختلف کارروائیوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق 28 جون (اتوار) کو ہی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ایک گروہ کے خلاف بھی انٹیلیجنس بنیادوں پر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدت پسند کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت کالعدم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے مزید تین شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔‘ طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پکتیکا کے علاقے جانی، پکتیا کے علاقے سمکانی اور کنڑ کے علاقے منورہمیں عام شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سنیچر کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
پکستانی فوجی کے مطابق اس واقعے میں تین حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ کالعدم تحریکِ طالبان سے منسلک گروہ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں رینجرز کیمپ حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ایک مبینہ شدت پسند نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اُس نے وہیں سے تربیت حاصل کی ہے۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا پر اس شدت پسند کا ’اعترافی بیان‘ بھی نشر کیا گیا ہے۔
28 جون کی شب پکتیا میں ہوئے فضائی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت’زیادہ نقصان پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا‘
بی بی سی پشتو کے مطابق اتوار کی شب پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا ہے۔
طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ اس گاؤں میں تقریباً 100 افراد زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی پشتو کے مطابق وہ آزادنہ طور پر جانی نقصان سے متعلق اس دعوے کی تصدیق نہیں کر پائے ہیں۔
مقامی ہسپتال کے چیف فزیشن ڈاکٹر نوروز نے کہا ہے کہ حملے کے بعد 40 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے شدید زخمیوں کو گردیز کے ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی پشتو کے مطابق پکتیکا کے علاقے گیان میں ہونے والے حملے میں محمد امین نامی شخص کا گھر نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
صوبہ کنڑ میں طالبان حکومت کے مقامی حکام نے بی بی سی کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا کہ ضلع مرورہ کے علاقے بارول میں رات گئے ایک فضائی حملے میں ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم علاقہ دور دراز ہونے کے باعث تاحال جانی نقصان یا تباہی کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
کچھ زخمی افراد اور عینی شاہدین، جن کی ویڈیوز بی بی سی پشتو کو موصول ہوئی ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی حملوں میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ عرصے میں پاکستان کی افغانستان میں کارروائیوں کے دعوے
دس جون کو بھی پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے 26 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھایاد رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اب تک دونوں ممالک کے حکام کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پاکستان افغان طالبان کی حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی حملوں کر کے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کر چکا ہے۔ تاہم افغان طالبان ہمیشہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ان حملوں میں مارے جانے والے افراد عام شہری ہوتے ہیں۔
رواں ماہ دس جون کو بھی پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’درستگی کے ساتھ‘ اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 26 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
دس جون کو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے پاک-افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کے ٹھکانوں پر درستگی سے حملے کرتے ہوئے 26 خوارج کو ہلاک کیا ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان نے رواں سال فروری میں افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان سے منسلک ان مقامات پر متعدد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

اس کے بعد مارچ میں طالبان حکومت کے ترجمان نے الزام عائد کیا تھا کہ کابل میں نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 269 ہے۔
یاد رہے کہ ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان راستے کافی عرصے سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہے۔

جماعت الاحرار کیا ہے؟
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ رات کیے گئے حملوں میں جماعت الاحرار سے منسلک ٹھکانوں اور مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یہ وہی کالعدم گروہ ہے جس نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2025 میں بی بی سی پشتو کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا تھا کہ بعض غیر ملکی جنگجوؤں، جن میں پاکستانی طالبان کے مقامی دھڑے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند گروہ شامل ہیں، نے ایک اتحاد کے تحت اُن کے دھڑے میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔
ان کے مطابق جماعت الاحرار کی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک شوریٰ تشکیل دی گئی تھی، جس نے باہمی ووٹنگ کے ذریعے عمر خالد خراسانی کو جماعت الاحرار کا سربراہ منتخب کیا تھا۔
احسان اللہ احسان کے مطابق بعد ازاں علامتی طور پر قیادت مولانا قاسم خراسانی المعروف ’ناظم‘ کے حوالے کی گئی، جو سوات کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کمانڈر ہیں۔ نومبر 2025 تک ’ناظم‘ جماعت الاحرار کے میڈیا اور مشاورتی امور میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
احسان اللہ احسان کے مطابق، حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب سوات طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت سنبھالی تھی، تو تنظیم کے اندر وسیع پیمانے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض مسلح کمانڈروں کی خواہش تھی کہ تنظیم کے اختیارات کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ قائم کی جائے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد ’پاکستانی حکومت کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔‘
احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس گروہ میں ساتھ شمولیت اختیار کی تھی۔
بی بی سی پشتو کو دستیاب معلومات کے مطابق، اس گروہ نے اپنی زیادہ تر توجہ مہمند ایجنسی اور اس کے ملحقہ علاقوں پر مرکوز رکھی کیونکہ اس کی قیادت کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔
مزید برآں، تحریک طالبان پاکستان کے متعدد اہم کمانڈرز بعدازاں جماعت الاحرار میں شامل ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مولوی صابر بھی شامل تھے۔
یہ تنظیم پاکستان میں کئی بڑے شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔