الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد خان نے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان کی پہچان ایک مثبت عمل ہے اور ہماری خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ کلب کی 50 سالہ سالگرہ (گولڈن جوبلی) کی مناسبت سے 50 روپے کا ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا جا رہا ہے جس پر پاکستان کی چار بڑی پہاڑی چوٹیوں کی تصاویر شائع کی گئی ہیں، یہ ٹکٹ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان اور ایک روشن مثال بنے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے الپائن کلب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان ٹورازم کارپوریشن کے ایم ڈی آفتاب رانا، گرین ٹورازم کے بریگیڈیر عرفان اختر، کمانڈور اختر شاہد وائین، بریگیڈیر مہدی اور خالد محمود بھی موجود تھے۔ صدر اے سی پی نے تقریب کے دوران خواتین میں کوہ پیمائی، ایڈونچر اسپورٹس اور آؤٹ ڈور قیادت کو فروغ دینے کے لیے دوسری "ویمن خوسر گینگ مہم 2026" کا باقاعدہ اعلان کیا۔ یہ مہم جولائی 2026ء کے پہلے ہفتے میں اسکردو سے روانہ ہوگی اور اس کے تمام انتظامات، منصوبہ بندی اور رابطہ کاری الپائن کلب خود انجام دے گا۔ مہم کے دوران خواتین کوہ پیما سلسلہ قراقرم کی خوبصورت وادی شگر میں واقع 6040 میٹر بلند خوسر گینگ چوٹی سر کریں گی۔ آنے والے وقت میں اس ٹیم میں خواتین فوٹوگرافرز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ الپائن کلب نے اپنی گولڈن جوبلی تقریبات کے دوران باری لا پر پہلی مکمل خواتین پر مشتمل کامیاب مہم سر کر کے صنفِ نازک کو بااختیار بنانے کے عزم کو مضبوط کیا تھا، جس میں ملک کے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی باصلاحیت خواتین نے شرکت کی تھی۔ اسی کامیابی کے تسلسل میں نئی مہم کے لیے شرکاء کا انتخاب معروف پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی کی سربراہی میں قائم تجربہ کار خواتین کی کمیٹی نے مکمل شفافیت کے ساتھ کیا ہے۔ منتخب شرکاء میں گلگت بلتستان سے زیبا بتول اور بی بی افزوں، اسلام آباد سے عمارہ شریف، خیبر پختونخوا سے اسماء بشیر بنگش، پنجاب سے بسمہ حسن اور سعدیہ مقبول، سندھ سے نتاشا فتح محمد، بلوچستان سے بی بی ملکہ اور آزاد جموں و کشمیر سے لائبہ شکیل شامل ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد خواتین کو بلند پہاڑوں پر کوہ پیمائی کا عملی تجربہ فراہم کرنا اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کی قیادت نے کوہ پیمائی، ایڈونچر ٹورازم اور ماحولیاتی آگاہی میں صنفی شمولیت کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ کلب نوجوانوں بالخصوص خواتین کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے مزید مواقع فراہم کرتا رہے گا۔ اس کے علاوہ کلب کی جانب سے ستمبر 2026ء میں "کے ٹو بلتورو کلین اپ مہم 2026" بھی منعقد کی جائے گی، جس کا مقصد پہاڑی ماحول کا تحفظ، ٹریکنگ کے راستوں سے کچرے کی صفائی اور ذمہ دارانہ سیاحت کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔ کلب حکام کا موقف ہے کہ پاکستان کے بلند و بالا پہاڑ ملک کا قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں جن کا تحفظ ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، جبکہ ایڈونچر اسپورٹس کی ترقی کے لیے اس سال نئے سپانسرز بھی اکٹھے کیے جائیں گے۔