پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات نے ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ مالی سال کے دوران سمندری خوراک کی برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی بلیو اکانومی اصلاحات اور مؤثر پالیسیوں کے باعث سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق فروزن مچھلی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات رہی جبکہ پاکستان سے مچھلی کی برآمدات چین، جاپان، سعودی عرب، امریکا سمیت دنیا کی 10 اہم بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں۔
محمد جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ علاقائی چیلنجز کے باوجود یہ ریکارڈ کامیابی حکومت، متعلقہ اداروں اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ نے عالمی معیار برقرار رکھنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر نے ڈاکٹر منصور وسان اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ویلیو ایڈیشن، جدید پراسیسنگ اور نئی برآمدی منڈیوں کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ سمندری خوراک کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس تاریخی کامیابی پر تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو مزید مستحکم بنا کر قومی معیشت میں اس شعبے کے کردار کو مزید فروغ دیا جائے گا۔