اسلام آباد میں ”میل جول“ کے نام سے ایک منفرد سماجی کمیونٹی نوجوانوں اور خاندانوں کو موبائل فون سے ہٹ کر براہِ راست ملاقات اور باہمی گفتگو کا موقع فراہم کر رہی ہے، جہاں مختلف موضوعات پر لیکچرز، مباحثے اور سماجی نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
آج کی نشست میں مقرر خرم نے اقبالیات کے موضوع پر لیکچر دیا، جبکہ شرکاء نے اس اقدام کو موجودہ دور کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصروف زندگی نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے، لوگ زیادہ تر موبائل فونز میں مصروف رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو گیا ہے، ایسے میں ”میل جول“ جیسی کمیونٹیز معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔
”میل جول“ کی بانی ثمن فاطمہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی-12 میں اکیلے رہنے کے دوران انہیں احساس ہوا کہ لوگوں کو ایک ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں وہ موبائل فون کے بغیر بیٹھ کر اپنے خیالات، مسائل اور تجربات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں دیہات کی بیٹھکیں اور چوک چوراہے سماجی رابطوں کا اہم ذریعہ ہوتے تھے، جہاں بزرگ اپنے مسائل اور تجربات ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔ ”میل جول“ اسی روایت کو جدید دور میں زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ لوگ مشینی زندگی سے نکل کر سکون کے چند لمحات ایک دوسرے کے ساتھ گزار سکیں۔
ثمن فاطمہ کے مطابق کمیونٹی میں مختلف موضوعات پر لیکچرز کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں خاندانوں سمیت ماں بیٹا، میاں بیوی اور بہن بھائی بھی شریک ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، سماجی مسائل پر گفتگو کرنا اور مثبت ماحول میں وقت گزارنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے کمیونٹی کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”میل جول“ کا کسی قسم کی ڈیٹنگ یا غیر اخلاقی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک خالصتاً سماجی اور فکری پلیٹ فارم ہے جو اسلامی اور معاشرتی اقدار کے مطابق لوگوں کو باہمی روابط استوار کرنے کا موقع دیتا ہے۔
ثمن فاطمہ کا کہنا تھا کہ بغیر تحقیق کسی بھی شخص یا ادارے کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی غلط ہے۔ انہوں نے عوام کو دعوت دی کہ وہ خود آ کر کمیونٹی کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کریں اور اس مثبت کاوش کا حصہ بنیں۔
اس موقع پر ثمن فاطمہ کی والدہ اور بہن بھی موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سمن کی عمر کم ہے لیکن اس کی سوچ معاشرے کی بہتری اور انسانی رشتوں کے فروغ کے لیے انتہائی مثبت ہے۔ ان کے مطابق پرانے زمانے کی بیٹھکوں اور میل جول کی روایت کو زندہ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مسائل اور خوشیاں بانٹ سکیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشرہ اس کوشش کو مثبت انداز میں دیکھے گا اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سماجی پلیٹ فارم سے وابستہ ہو کر باہمی محبت، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ دیں گے۔