بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے معزولی کے بعد بھارت فرار ہونے کے بعد اب رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کا اور ان کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا رواں سال دسمبر کے آس پاس وطن واپس جانے کا ارادہ ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بنگلادیش واپسی پر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے یا ان کا قتل بھی ہوسکتا ہے، لیکن اگر موت آنی ہے تو وہ چاہتی ہیں کہ یہ ان کی اپنی سرزمین پر آئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وطن واپسی پر ان کا عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا ارادہ ہے، تاہم جلاوطنی سے واپسی کے اس منصوبے پر فی الحال ڈھاکا انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
شیخ حسینہ واجد نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بنگلادیش میں ان کی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو شدید دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بنگلادیشی حکومت کے ترجمان نے سابق وزیراعظم کے اس بیان پر کسی بھی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔